![]() |
|
پورا منظر دیکھنے کے لیے کلک اور ڈریگ کریں ’ایک بڑا گھر بناتی:‘ گھریلو عورت کی کہانی
میں بھی درزی کا کام کرتی تھی لیکن پھر میرے سیدھے ہاتھ میں ہوگئی اور مجھے کام چھوڑنا پڑا۔ اب میں گھر پر رہ کر ہی اپنی فیملی کی دیکھ بحال کرتی ہوں۔ میں کبھی کبھار کڑھائی کا کام کر کے کچھ پیسے کما لیتی ہوں۔
میرے والدین نزدیک ہی رہتے ہیں اور ہماری مالی مدد کر دیتے ہیں۔ وہ ہر ماہ مجھے کچھ پیسے دے دیتے ہیں۔ میرے بڑے دو بیٹوں کی کفالت وہی کر رہے ہیں اور وہ انہی کے ساتھ رہتے ہیں۔ صرف چھوٹا بیٹا ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ میرا گھر کنکریٹ کا بنا ہوا ہے۔ پہلی منزل پر ایک ساٹھ فیٹ کا چھوٹا سا کمرہ ہے۔ بہت چھوٹا ہے لیکن کم ازکم میرے سر پر چھت تو ہے۔
نیچے کی منزل پر ایک اور کمرہ ہے اور تقریباً اتنا ہی بڑا ہے۔ یہ کمرہ ہم 500 روپے (11 ڈالر/6 پاونڈ) مہانہ کرایہ پر دیتے ہیں۔ لیکن بارشوں کے دنوں میں اس میں پانی بھر آتا ہے اس لیے اس کو کرایہ پر لینے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔ میں اکثر صبح سویرے اٹھ جاتی ہوں اور دس بجے تک گھر کے تمام کام ختم کر لیتی ہوں۔ میں دن میں صرف دو مرتبہ کھانا پکاتی ہوں۔ ایک دفعہ صبح جب میرے شوہر کام پر جاتے ہیں تو انھیں کھانا ساتھ باندہ دیتی ہوں اور دوسرا جب وہ گھر آتے ہیں ۔ میں دوپہر کا کھانا اپنی ماں کی طرف کھا لیتی ہوں۔
مجھے یہاں رہنا اس لیے اچھا لگتا ہے کیوں کہ یہاں کے لوگوں اچھے ہیں اور میرا خیال رکھتے ہیں۔ اگر میرے شوہررات دیر تک کام کر رہے ہوں یا رات کی شفٹ کر رہے ہوں تو مجھے بالکل ڈر نہیں لگتا کیوں کہ میرا خیال میں یہ ہمارے لیے محفوظ ترین جگہ ہے۔ اگر میرے پاس پیسہ ہوتا تو میں ایک بڑا گھر بناتی۔ |
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ^^ | |||