شہر سیارہ، کچی آبادی کی زندگی
 

پورا منظر دیکھنے کے لیے کلک اور ڈریگ کریں

’قرضہ اتنے کا اتنا:‘ گھریلو ملازمہ کی کہانی

 
ستائیس سالہ وملہ
ستائیس سالہ وملہ
’میں چھ سال کی عمر میں دھاروی میں اپنے رشتے داروں کے ہاں رہنے آئی۔ جب میری شادی ہوئی تو اس وقت میں سولہ سال کی تھی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد میری پہلی بیٹی پیدا ہوئی جو اب گیارہ سال کی ہے۔ میری دوسری بیٹی نو سال کی ہے جبکہ تیسری کی عمر پانچ سال ہے۔


میں اور میرا شوہر، دونوں کام کرتے ہیں اور ہم مل کر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ میں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہوں جبکہ میرا شوہر المونیم کے برتن بنانے والی ایک کمپنی میں کام کرتا ہے۔
• پیشہ: گھریلو ملازمہ
• آمدنی: بائیس ڈالر یا بارہ پاؤنڈ مہینہ، سوہر کی تنخواہ چون ڈالرز یا تیس پاؤنڈ مہینہ
• گھر: ریل کی پٹری کے ساتھ جھونپڑی جس میں پانی یا ٹوائلٹ کا انتظام نہیں ہے
• علاقے میں قیام: سولہ سال- اس امید پر کہ بہتر گھر میں منتقل ہوسکے۔


میں روزانہ صبح چھ بجے اٹھتی ہوں۔ کھانا پکاتی ہوں، بچوں کو سکول کے لئے تیار کرتی ہوں اور اپنے شوہر کا لنچ باکس بناتی ہوں۔ اپنے گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر میں نزدیک ہی ایک گھر میں کام کرتی ہوں۔


وہاں مجھے تقریبا ساڑھے تین گھنٹے لگتے ہیں جن میں مجھے گھر کی صفائی کرنی ہوتی ہے، جھاڑو دینا ہوتا ہے، برتن اور کپڑے بھی میں ہی دھوتی ہوں۔ دوپہر کے ساڑھے ایک بجے گھر واپس آ کر میں پھولوں کے ہار بناتی ہوں تاکہ کچھ اضافی آمدن ہو سکے۔ باقی وقت رات کا کھانا پکانے اور بچوں کو پڑھانے میں گزر جاتا ہے۔

میرا شوہر رات کے آٹھ بجے تک کام سے واپس آ جاتا ہے جس کے بعد ہم اگلے دن کے لئے پانی بھرنے جاتے ہیں۔ میرے گھر میں پانی کی سپلائی نہیں ہے اور نہ ہی اس علاقے میں کسی گھر کے نلکے سے پانی آتا ہے۔ سب کو پانی بھرنے کے لئے ریل کی پٹڑی کے پار جانا پڑتا ہے جو یہاں سے دس منٹ کے پیدل فاصلے پر ہے۔


ہماری آمدنی سے خرچے پورے نہیں ہوتے اور اکثر ہمیں دوسروں سے پیسے ادھار مانگ کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت میرے سر پر پندرہ ہزار روپے کا قرضہ ہے۔ میں ہر مہینے پندرہ سو روپے سود ادا کرتی ہوں لیکن قرضہ اتنے کا اتنا ہی ہے۔ سب سے زیادہ خرچہ میری بیٹیوں کی دوائیوں پر ہوتا ہے کیونکہ میں ہمیشہ ان کا اچھے سے اچھا علاج کرواتی ہوں چاہے مجھے پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ مجھے اپنی بچیوں کی ہر وقت فکر رہتی ہے اور میں شام چھ بجے کے بعد گھر کو اندر سے تالا لگا دیتی ہوں تاکہ وہ بالکل باہر نہ جا سکیں۔ ناصرف ریل کی پٹڑی کے پاس کھیلنا خطرناک ہے بلکہ مجھے یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ کوئی انہیں اغواء نہ کر لے یا پھر انہیں ٹھیس نہ پہنچا دے۔‘
 
 
وملہ کی کہانی
^^ تازہ ترین خبریں >>پاکستانآپ کی آواز