بچوں کی آوازیں
 
’کوئی ساتھ کھیلنے والا نہیں ۔۔۔ ‘
’ وہ دن بہت مشکل تھا‘
 


’میری ایک بہن اور ایک بھائی تھا۔ میں سب سے بڑی تھی۔ میری بہن میرے ساتھ سکول میں دوسری جماعت میں پڑھتی تھی اور میں چوتھی جماعت میں۔ ہم دونوں بہنیں صبح اکٹھی سکول جاتی تھیں۔ میرا چھوٹا بھائی حمزہ پہلی جماعت میں پڑھتا تھا۔

آٹھ اکتوبر کو میرا روزہ تھا اور سکول نہیں جا سکی۔ میری بہن اکیلی سکول گئی۔ وہ پھر زندہ واپس نہیں آئی۔
وہ سکول میں ہی مر گئی۔

میرا بھائی گھر میں سو رہا تھا۔ میں اور امّی جلدی بھاگ کر باہر نکل آئے۔ ابّو میرے بھائی کو اُٹھا کر باہر لا رہے تھے، چھت اُن دونوں پرگِر گئی۔ ابّو زخمی ہو گئے۔ بھائی بھی زخمی تھا۔ پھر بھائی فوت ہو گیا۔

ہمارا گھر ٹوٹ گیا۔ ہم سب یہاں خیموں میں آ گئے۔ میں اور میرے ابّو اور امّی خیمے میں رہتے ہیں۔ ابّو، امّی کبھی کبھی بہت روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم اکیلی رہ گئیں۔

ہمارے پاس بھائی اور بہن کی تصویر بھی نہیں ہے۔ وہ بھی مکان کے نیچے رہ گئی۔ جس دن زلزلہ آیا سب مکان گِر گئے اور کھانے پینے کی چیزیں بھی نیچے دب گئیں۔ ہم نے آٹا نکلا۔ اُس میں مٹی ملی ہوئی تھی۔ کوئی رضائی اور کمبل بھی نہیں تھا۔ وہ دن بہت مشکل تھا۔

اب کھانا بھی ملتا ہے، میں سکول بھی جاتی ہوں۔ مجھے نیا بیگ ملا ہے اور نئی کتابیں۔ جب سکول میں ہوتی ہوں تو بہت خوش ہوتی ہوں۔ جب خمیے میں واپس جاتی ہوں، دل بہت اُداس ہوتا ہے۔ اکیلی ہوتی ہوں۔ کوئی کھیلنے والا نہیں ہوتا۔

جب میری بہن اور بھائی ہوتے تھے تو میں خوب لڑتی تھی اور کھیلتی بھی تھی، لیکن اب کیا کروں؟

(چودہ سالہ شازیہ کا تعلق بٹگرام سے ہے اور وہ اس وقت میرہ میں قائم خیمہ بستی میں رہ رہی ہے۔ شازیہ نے ہمارے نمائندے محمد اشتیاق کو اپنے اور اپنے خاندان کے بارے میں بتایا۔)





 
 
’کوئی ساتھ کھیلنے والا نہیں‘
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ واپس اوپر واپس اوپرآپ کی آواز صفحہ اول