BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 August, 2006, 14:06 GMT 19:06 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مائی بلاگ: پولینڈ سفر نامہ
 

 
 
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔


بائیس جون، دو ہزار چھ

بائیس جون کو پولینڈ گئی۔ وہاں مجھے ’پیس فار سکولز‘ کی طرف سے دعوت دی تھی جو کہ بیاٹہ نے دی تھی۔ بیاٹہ صاحبہ پچھلے سال میرے گھر آئیں تھیں اور میرا سکول وِزٹ کیا تھا۔ میرے سکول کی بچیوں کو مل کر بہت خوش ہوئیں اور میرے اس تعلیمی کام کو بہت سراہا۔ اسی دوران مجھے پولینڈ آنے کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی۔

تیئس جون کو پولینڈ پہنچی تو شام کو میں پولینڈ میں مختلف زبانیں سکھانے والے سب سے مشہور ادارے ایمپِک وِزٹ کے لیے گئی جہاں پر انہوں نے مجھے انگلش سکھانے کی پیشکش کی جو میں نے قبول کر لی۔ وہاں پر ٹیچر جسٹینا نے مجھے کچھ انگلش سکھائی۔


چوبیس جون دو ہزار چھ
چوبیس کی شام کو میں نے سکول کی کلاس لی اور شام میں پولینڈ کے لیڈر آف اپوزیشن کی دعوت پر ایک مباحثے میں شریک ہوئی جس میں یہ بات زیرِ بحث تھی کہ پولینڈ کی خواتین کو بھی میری طرح جاندار اور مؤثر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس مباحثے میں میری این جی او مختیار مائی وومن ویلفیئر کے تحت ہونے والے کام، تعلیمی پروگرام، خواتین کے حقوق کی جدوجہد، ہر مظلوم کے لیے حق و انصاف کے لیے مستقل مزاجی اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر میری ہمت و حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ پولینڈ کی عورتوں کو بھی اپنا کردار اس طرح مثبت اور احسن طریقے سے سرانجام دینا چاہیئے۔ اس مباحثے میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ پولینڈ کی سیاست میں صرف تین خواتین ہیں جن میں سے ایک نے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ اس حالت پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مثال دی گئی کہ پسماندہ ملک سے تعلق رکھنے کے باوجود میں نے تعلیم کے فروغ، خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس پر ہال میں موجود تمام خواتین اور مردوں نے کھڑے ہو کر میرے حوصلہ اور ثابت قدمی کی داد دی۔ جب میں نے یہ سنا کہ پولینڈ کی سیاست میں خواتین کی تعداد صرف تین ہے اور اس میں سے ایک نے سیاست چھوڑ دی ہے تو مجھے حیرت ہوئی کہ یہ تعداد بڑھنی چاہیئے تھی مگر بڑھنے کی بجائے کم ہو گئی۔ شاید ہر ملک میں عورت کی حالت ایک جیسی ہے اور ہر ملک میں عورت کو پیچھے رکھا جاتا ہے۔


چھبیس جون، دو ہزار چھ
ایمپِک سکول کی تمام اساتذہ جن کی تعداد ایک سو پچاس کے قریب ہے، ان کی پارٹی کی۔ چھبیس تاریخ کو میرے گھر سے اطلاع ملی کہ میری امی شدید بیمار ہیں۔


ستائیس جون، دو ہزار چھ
ستائیس کو ہماری واپسی کے لیے اٹھائیس کی ٹکٹ بُک کر دی گئی۔ ستائیس کی شام میں نے ایک ایمبیسی میں الوداعی پارٹی میں شرکت کی جہاں پر پاکستانی ایمبیسیڈر فوزیہ صاحبہ کے علاوہ ایران، آسٹریا، فرانس، سری لنکا کے ایمبیسڈرز سے ملاقاتیں ہوئیں۔


اٹھائیس جون، دو ہزار چھ

صبح گیارہ بجے ایمپِک سکول کی ڈائریکٹر نے مجھے اور نسیم اختر کو سرٹیفیکیٹس دیں۔ سب ٹیچرز نے مجھے گلے لگایا، پیار دیا اور آئندہ ملنے کی امید کا اظہار کیا۔ میں ہنس بھی رہی تھی اور مجھے اس چیز کا افسوس بھی تھا کہ سبق کے دوران اکثر میں اپنی دوست نسیم اختر کے پیچھے تُکے لگاتی رہتی اور سوچتی کہ اگر میرے والدین نے مجھے پڑھایا ہوتا تو آج ایسا نہ ہوتا۔ میں نے سب کا شکریہ ادا کیا اور معذرت کی کہ مجھے امی کی بیماری کی وجہ سے جلد واپس جانا پڑ رہا ہے۔


انتیس جون، دو ہزار چھ
رات تقریباً دو بجے ہم کراچی پہنچ چکے تھے۔ صبح ساڑھے سات بجے ہماری کراچی سے لاہور کی فلائٹ تھی اور ہماری ٹکٹ چانس پر تھی مگر کراچی کے ٹرمینل منیجر صاحب نے مہربانی کر کے ہمیں ٹکٹس کنفرم کرا دیں۔ مگر موسم کی خرابی کی وجہ سے طیارہ لاہور نہ اتر سکا لہاذا ہم دوبارہ کراچی چلے گئے۔ موسم کلیئر ہونے کے بعد لاہور شام کو آ سکے۔
میں بہت پریشان تھی کیونکہ امی کی طبیعت بہت خراب تھی۔ میری امی ندیم بھائی اور جمشید بھائی کی کوشش سے فاطمہ میڈیکل ہاسپٹل میں ایڈمِٹ ہو چکی تھیں۔


تیس جون، دو ہزار چھ
میں اپنی امی سے ملی، جن کی صحت سنبھل رہی تھی۔ پہلے سے نسبتاً بہتر محسوس کر رہی تھی۔


ایک جولائی، دو ہزار چھ

یکم جولائی کو میں گھر میروالہ پہنچی جہاں ایک دردناک واقعہ نے میرے دل کو ہلا کے رکھ دیا۔ ایک نو سالہ بچی نسیم بی بی کے ساتھ زیادتی اور دوسری فیضاں بی بی اسی زیادتی کے بدلے میں ونی بن چکی تھیں۔ میرے علاقہ کے قریبی موضع وڈووالہ اور قریبی بستی خروس میں یہ واقع ہو چکا تھا۔ میں بہت دلبرداشتہ ہوئی کہ میں تو دنیا میں عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہوں مگر میرے اپنے پاس کے علاقے میں یہ کچھ ہو رہا ہے۔ میں بہت مایوس ہوئی، بہت پریشان ہوئی کہ کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ پھر سوچتی ہوں کہ کبھی نہ کبھی یہ سلسلہ ضرور ختم ہوگا۔
یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا
 میں بہت دلبرداشتہ ہوئی کہ میں تو دنیا میں عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہوں مگر میرے اپنے پاس کے علاقے میں یہ کچھ ہو رہا ہے۔ میں بہت مایوس ہوئی، بہت پریشان ہوئی کہ کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
 
مختار مائی
مجھے مایوس نہیں ہونا بلکہ مجھے ان مسائل سے ڈٹ کر لڑنا ہے۔ جب تک میرے جسم میں سانسیں ہیں میں لڑتی رہوں گی۔ یہ بہت پرانی اور فرسودہ روایات ہیں۔ آسانی سے اور جلد ختم نہیں ہوں گی۔ ان کے خاتمہ کے لیے بہت وقت درکار ہے۔ شاید کوئی تبدیلی میں اپنی زندگی میں دیکھ سکوں مگر میرا ایمان ہے کہ ایک نہ ایک دن ان دکھوں کا خاتمہ ضرور ہو گا۔ میرے بعد میرے سکول کے بچے اور بچیاں اپنے اور دوسروں کے حقوق کے لیے لڑیں گے۔ اسی امید پہ تھوڑا سکون ملتا ہے۔


تین جولائی، دو ہزار چھ
تین جولائی صبح سات بجے کا ٹائم تھا کہ میرے کمرے کے باہر رونے کی آوازیں آئیں۔ میں اٹھ کر باہر چلی گئی۔ دیکھا تو دو خواتین زاروقطار رو رہی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میرے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رونے لگیں۔ میں انہیں کمرے میں لے آئی جہاں میری دوست نسیم اختر بھی ہوئی تھی۔ وہ بھی رونے کی آوازیں سن کر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ ہم لوگوں نے ان کو چپ کرایا مگر وہ مسلسل روئی جا رہی تھیں۔ انہوں نے ایک سولہ سترہ سالہ بچے کی تصویر اٹھائی ہوئی تھی اور مسلسل بین کرکے کہہ رہی تھیں کہ ہمارا بچہ ظالموں نے شہید کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ایک ضمنی الیکشن میں ایک جاگیردار کو ووٹ نہ دینے کی پاداش میں اس مقامی وڈیرے کے کارندوں نے ان کی بستی میں، جو کہ دو سو گھروں پر مشتمل ہے، داخل ہو کر مار پیٹ، قتل و غارت، دھونی دھمکی، دن دہاڑے لوٹ مار، فائرنگ کر کے آٹھ خواتین، دس بارہ مردوں کو زخمی اور ایک سولہ سالہ بچے کا قتل کر دیا۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ انہوں نے ایک خاص امیدوار کو ووٹ کیوں نہیں دیئے۔ ایک طرف قتل و غارت ہو رہی تھی، دوسری جانب پولیس وڈیرے کے ڈیرے پر کھانا کھانے میں مصروف تھی۔ قانون کے یہ محافظ اس وقت ان غریب لوگوں کے پاس پہنچے جب یہ لوگ اچھی طرح تباہ و برباد ہو چکے تھے۔
یہ وڈیرے، جاگیردار، سردار کب تک اس طرح کی غنڈہ گردیاں، لوٹ مار، قتل و غارت کرتے اور پنچائیتیں اور جرگے سجاتے رہیں گے؟ کیا کوئی کبھی ان نہیں کا ہاتھ پکڑے گا؟ یہ وہ لوگ ہیں جو ملک کی جڑوں کو دیمک کی طرح لگے ہوئے ہیں۔
ہاں آخر ایک ایسا دن ضرور آئے گا جب میرے ساتھ یا میرے بعد ہر ایک انسان تھوڑی تھوڑی کوششیں کرتا رہا تو ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔


یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان مدد کی ہے۔


آپ کے پیغامات:

عبدالتواب، رحیم یار خان
بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ ہم ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گے۔

عمران ملک، پاکستان
وہ اچھی ہیں اور بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔

محیب علی شیخ، سعودی عرب
سلام ہے آپ کو جو آپ نے ظلم کا سامنا کیا۔ آج کل کون سی عورت ہے جو اتنے ظلم کا سامنا کرے۔ میں آپ کو ہمیشہ سلام کرتا رہوں گا کہ ہمارے پاکستان میں ایسی بھی عورتیں ہیں جو ہر مشکل کا سامنا کر سکتی ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ ہر موڑ پر آپ کا ساتھ دے۔

اقصٰی نسیم
آپ عظیم ہیں اور آپ میں ان لوگوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہے جو ہمارے لوگوں کو دبا رہے ہیں، خاص کر عورتوں کو۔ آپ نے اس دنیا کی ہر عورت کو ایک نئی امید دی ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے آپ کی شکر گزار ہوں۔

شفیق، چترال
آپ بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ اسی طرح کرتی رہیے۔

آصف محمود، لاہور
ڈئیر بہن مختار مائی،
آپ نے جو کچھ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے کیا وہ قابل تعریف ہے۔ آپ ایک بہادر خاتوں ہیں اور میں آپ کو سلوٹ کرتا ہوں۔ پیاری بہن اللہ آپ کو مزید حوصلہ اور لمبی عمر عطا کرے تا کہ آپ اس معاشرے سے ان تمام فرسودہ روایات کو ختم کر سکیں۔ اور میں دعا کرتا ہوں کہ آپ کو اپنے سکول والے مشن میں بھی کامیابی حاصل ہو۔ ہمیں پاکستان میں آپ جیسی عورتوں کی بہت ضرورت ہے جو ان بیوقوف اور ظالم مردوں کا سامنا کر سکیں۔ اپنا اور اپنی فیملی کا خیال رکھیے گا، اللہ حافظ۔ آپ کا بھائی آصف محمود۔

سید رسول شاہ، پاکستان
میرے خیال سے یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ نے جس طرح معاشرے کی اس ناانصافی کا مقابلہ کیا اس کا سبق آپ دوسروں کو بھی دے رہی ہیں۔ یہ کوشش جاری رہنی چاہیے۔

فاتمہ شاہین، جرمنی
میں نے جرمن لائبریری سے آپ کی کتاب لے کر پڑھی۔ آپ کی ہمت کو داد دیے بغیر رہا نہیں جا سکتا۔ دوسری طرف اس بات پر انتہائی مایوسی ہوتی ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک میں رہنے والی اسلام کی بیٹی کی زندگی ایسی ہوتی ہے جیسی نہ صرف مختار مائی بلکہ ان جیسی ہزاروں کی ہے۔ تو اس مملکت کا ہمیں کیا فائدہ؟ اگر فوج کا ہاتھ ان وڈیروں پر نہ ہوتا تو یہ کبھی بھی اتنی ہمت والے نہ ہوتے۔

شہباز احمد، جگرات
میرے خیال سے مختار مائی دنیا بھر کی عورتوں کے لیے بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ ان کو اپنی یہ کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ خاص کر پاکستان میں جہاں عورت ظلم کا شکار ہے۔

حبیب رحمٰن، بلوچستان
کاش آپ جیسی عورتیں ہمارے ملک میں اور بھی زیادہ ہوتیں۔ ہمت نہ ہارو، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔

ثناء خان، کراچی
آئی لو یو!

رانا زمان، اوکاڑہ
مجھے آپ پر فخر ہے۔ آپ بہت بہادر خاتون ہیں۔ اللہ آپ کو اور بہادر کرے اور لمبی عمر دے، امین۔

خان پٹھان، ٹورانٹو
آپ کا کام دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ آپ کا کیس پھر عدالت میں شروع نہیں ہوا اس کا افسوس ہے۔ ہم سب کو آپ جیسی سماجی کارکن کی ضرورت ہے، جس نے دوسرے ملک کی شہریت چھوڑ کر اپنا ملک پسند کیا اور کام کیا۔ اللہ آپ کو حیاتی اور ہمت دے۔

احمر شاہین، فنلینڈ
قدم بڑھاؤ مائی رب تمھارے ساتھ ہے۔ دیے سے دیا جلائے جاؤ اور اپنے ارد گرد روشنی پھیلائے جاؤ۔ اسی طرح جہالت کا اندھیرا ختم ہوگا۔

 
 

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
 
  
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
 
مختار مائیسپریم کورٹ سماعت
مختار مائی کے مقدمے کی سماعت 27 جون سے
 
 
مختار مائیمائی کا اعزاز
مختار مائی ’گلیمر ایوارڈ‘ کے لیے منتخب
 
 
سالنامہاجتماعی شرمندگی
پاکستان میں خواتین کے مسائل اور مشرف کا بیان
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد