صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کے مدرسوں میں پڑھنے والے تمام غیر ملکی طالبعلموں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے ان غیر ملکیوں کی تعداد چودہ سو بتائی ہے۔ اس کے علاوہ صدر کا کہنا ہے کہ تمام مدارس کی رجسٹریشن کی جائے گی اور جو مدرسہ رجسٹریشن نہیں کرائے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان اقدامات کے لیے انہوں نے اس سال دسمبر تک کی مہلت دی ہے۔ جب سے لندن بم دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث ایک خودکش حملہ آور کے بارے میں یہ معلومات منظرِعام پر آئی ہیں کہ اس نے ایک پاکستانی مدرسے میں تربیت حاصل کی تھی، پاکستان میں مدارس کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔ کیا مدارس میں پڑھنے والے غیر ملکی طلباء کو نکالنے کا حکومتی اقدام درست ہے؟ کیا مستقل بنیادوں پر مدارس کی جانچ پڑتال ممکن ہے؟ کیا آپ نے کبھی کسی مدرسے میں تعلیم حاصل کی ہے یا آپ ان غیرملکی طلباء میں سے ہیں جو ان مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں؟ ان مدارس کے فوائد کیا ہیں؟ ہمیں اپنے تجربات، مشاہدات، کہانیاں اور آراء لکھ بھیجیے۔ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
محمد بلال اکرم، لاہور، پاکستان میں ایک دینی مدرسے میں اس وقت تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ میرا ایک سوال ہے وہ یہ کہ میڈیا کو پاکستان میں ہی کیوں مدارس نظر آتے ہیں؟ مدارس تو امریکہ میں بھی ہیں، برطانیہ میں بھی۔ پھر پاکستان ہی کیوں؟ سید قمر علی، اسلام آباد، پاکستان ہر مشکل وقت میں پاکستانی قیادت جلد بازی میں فیصلے کرتی ہے۔ جلد بازی میں کیے ہوئے زیادہ تر فیصلے غلط ثابت ہوتے ہیں۔ یہ فیصلہ ٹھیک ہے مگر جلد بازی میں کیا گیا ہے۔ اوپر جانے کے لیے ہمیں ہمیشہ نیچے سے شروعات کرنی چاہیئے۔ اس فیصلے سے زیادہ اہم مدارس کے سیلیبس ہے اور ان کی ریجسٹریشن۔ امین الحسنات، پاکستان جناب، مدرسے دہشت گرد نہیں بلکہ علما پیدا کرتے ہیں۔ آپ کو کیا سمجھاؤں، آپ کو عالم اور دہشت گرد کا فرق ہی معلوم نہیں۔۔۔ عبدل واحد، پاکستان یہ جو طریقہ ہے یہ بالکل غلط ہے اس لیے کہ اسلام پر سب سے بڑا حملہ یہی ہے۔ ہم صبر اور استحکام کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہوگی۔ یہ جنگ اب شروع ہو گئی ہے۔ ذوالفقار احمد چیما، کویت اللہ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور ان کو بر وقت صحیح فیصلے کرنے کی ہمت دے۔ یہ فیصلہ گھبراہٹ کا ہے۔ ہر کسی کو نماز پڑھ کر دعا کرنی چاہیئے اور مشرف صاحبکے لیے دعا کرنی چاہیئے۔ شریف خان، پاکستان اسلام ایک اچھا مذہب ہے۔ اسلام کسی کو برا راستہ نہیں دکھاتا۔ اسلام کہتا ہے تبلیغ کرو اور غیر مذہب کو پیار سے، محبت سے اپناؤ، ظلم سے نہیں۔ بات رہی مدارس کی تو وہاں لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو اسلام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ افسر زیب خان، افغانستان جس کو جو کرنا ہے کر لے۔ پر فائدہ کوئی نہیں ہے۔ محمد علی منصور، کراچی، پاکستان یہ سراسر غلط فیصلہ ہے۔ دنیا میں صرف تین ممالک میں ہی مدارس میں تعلیم دی جاتی ہے، انڈیا، پاکستان اور مصر۔ تو پابندی سب پر لگے اور دوسرا یہ اسلامی تعلیم کو ختم کرنے کی سازش ہے۔ مشرف کیا کوئی اور بھت ہوتا تو یہی ہوتا۔ ہمیں صرف اسلام کو بچانے کی فکر کرنی چاہیئے نا کہ فضولیات کی۔ عدیل منصور، کراچی، پاکستان اللہ کے دین کو سیکھنے کی جگہ مدارس ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کے دین کو جب بھی مٹانے کی کوشش کی گئی دین اتنا ہی زیادہ پھلا ہے اور دین کو مٹانے والے مٹ گئے۔ محمد فیصل، راولپنڈی، پاکستان یہ فیصلہ کافی حد تک ٹھیک ہے مگر میرے خیال میں دہشت گرد مدرسوں میں نہیں بلکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ عرفان صدیقی، کوئٹہ، پاکستان ضروری نہیں کہ مدرسوں میں ہر کوئی دہشتگردی کی تربیت حاصل نہیں کر رہا۔ ان مدرسوں میں کئی لوگ ایسے ہیں جو اپنے دین کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں اور یہ سہولت انہیں اپنے ملکوں میں میسر نہیں۔ لیکن جہاں تک صدر مشرف کا مدرسوں کو رجسٹر کرانے کے اقدام کا تعلق ہے وہ بالکل درست ہے کیونکہ ہمارے ملک میں بہت سے مدرسے ایسے ہیں جو نفرت کا سبق سکھاتے ہیں اور جہاد کی طرف راغب کرتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا ہے جہاد غلط ہے لیکن جہاد کا جو طریقہ مدرسوں میں سکھایا جا رہا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ اس لیے مدرسوں کی رجسٹریشن اور ان کے بارے میں ساری معلومات رکھنے سے یہ بھی پتا چلے گا کون کون ان مدرسوں میں پڑھ رہا ہے اور اس طرح اگر کسی نے غلط رستہ اختیار کیا تو اسے پکڑنے میں آسانی ہوگی۔ رضوان احمد، لاہور: یہ غلط ہے اور اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ دین کو پھیلاؤ اور قرآن پڑھو اور پڑھاؤ۔ مشرف ہمیشہ اسلام کے خلاف بات کرتے ہیں۔ اس کاروائی کو فوراً روکنا چاہیے۔ راجہ یونس، دمام، سعودی عرب: امریکی اور یورپی ملکوں نے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے اور یہ بات صحیح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جو بھی ہو سکے کرنا چاہیے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ دہشت گردی کا مرتکب کون ہے۔ دوسری طرف پاکستانی حکومت نے بھی ایک اعلان جنگ کیا ہوا ہے اور وہ ہے اسلام کے خلاف جنگ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایئریل شیرون، منموہن سنگھ، ٹونی بلیئراور بُش کے سپاہ کس مدرسے سے تعلیم یافتہ ہیں؟ روسی فوج نے کہاں اور کس مدرسے میں تعلیم حاصل کی؟ بوسنیا میں ہزاروں لوگوں کے قاتلوں نے کس مدرسے سے علم کی روشنی پائی؟ شہواراکبر، لاہور، پاکستان میں قریباً تین سال تک ایک مدرسے میں زیر تعلیم رہا ہوں۔ مجھے تو خود کش حملوں کی کوئی تعلیم نہیں دی گئی۔ اور یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر مغربی ممالک ہم لوگوں پر داخلے کی پابندی لگا دیں تو ہم کہاں جائیں گے۔ مقصود عبداللہ، کویت مدرسوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ قانونی ہے اور یہ فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ حکومت کو یہ بات یقینی بنانا چاہیے کہ مدارس کسی غیر قانونی کاروائی میں ملوث نہ ہوں اور ملک کی سلامتی اور امن کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ غیر ملکی طلباء کو بھی رجسٹریشن کرانا چاہیے ورنہ ملک سے چلے جانا چاہیے۔ تاہم صرف ان طلباء کو ملک سے نکالنا چاہیے جو کہ غیر قانونی کاروائی کرتے ہوں، سب غیر ملکی طلباء کو نہیں۔ شام خان، لندن: اب پاکستان امریکہ اور برطانیہ کی ’ہِٹ لسٹ‘ پر ہے اور اس سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی پالیسی میں بہتری لائے۔ اگرچہ غیر ملکی طلباء دہشت گردی کے کچھ ہی واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں لیکن میرے خیال میں یہ پاکستان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرے۔ اور یہی وقت ہے کہ مسلمان دنیا، خصوصاً مشرق وسطٰی کے حکمران اپنے وسائل مسلمانوں کی بہبود کے لیے استعمال میں لائیں۔ کاشف دانش، بریمپٹن، کینیڈا: بہت ہی بیوقوفانہ اقدام ہے۔ یہ حکومت کی مخبوط لحواسی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہی سلوک دوسرے ممالک پاکستانی طلباء کے ساتھ کریں تو اس کے کیا نتائج ہوں گے۔ایسے اقدام کی بجائے جو تعلیم وہاں دی جا رہی ہے اس کو بدلیں۔ غضنفر، نیویارک: میں عموماً صدر مشرف کی پالیسیوں سے اتفاق کرتا ہوں لیکن اس معاملے میں میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ مدرسے ایک اثاثہ ہیں اور تعلیم کے اچھے ادارے ہیں۔ میرا خیال ہے شاید مشرف صاحب بیرونی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔  | کمزور کو دباؤ  یہ ایک سیاسی کاروائی ہے جس کا مقصد پاکستان میں کمزوروں کو دبانا ہے۔ اصل میں ان لوگوں کو نشانا بنانا چاہیے جو کہ نفرت کا پرچار کرتے ہیں۔  ایلن، سین فرانسسکو |
ایلن، سین فرانسسکو، امریکہ: مدرسوں سے جو پیغام آ رہا ہے اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ طلباء کو۔ یہ ایک سیاسی کاروائی ہے جس کا مقصد پاکستان میں کمزوروں کو دبانا ہے۔ اصل میں ان لوگوں کو نشانا بنانا چاہیے جو کہ نفرت کا پرچار کرتے ہیں۔ آفتاب ستی، راولپنڈی، پاکستان: یہ عمل بالکل غلط ہے۔ شیر بہادر خان، تورورسا، پاکستان: مشرف صاحب کو چاہیے کہ وہ اس ملک سے چلے جائیں۔ اسلم صابر، اسلام آباد، پاکستان: یہ فیصلہ بالکل غلط ہے کیونکہ مدرسوں کے بچے کسی صورت دہشت گرد نہیں ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ ان طلباء کو اپنے مقاصدکے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ سٹیفنی، ایڈنبرا، سکاٹ لینڈ: اس کاروائی سے وہ لوگ ناراض اور مایوس ہوں گے جو کہ مدرسوں میں اچھی باتیں سیکھنے جاتے ہیں۔ اور جہاں تک بات ہے شدت پسندوں کی تو وہ کوئی نئی جگہ تلاش کر لیں گے۔ کاشف، ابو ظبی: ہمیں اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ مختلف ممالک سے طلباء ہمارے ہاں پڑھنے آتے ہیں۔ یہ طلباء ہمارے مہمان ہیں۔ ان پر پابندی لگانے سے یقیناً ہمارے ملک کی بدنامی ہوگی۔ عمران جلالی، ریاض، سعودی عرب: یہ حکم مشرف صاحب کے آقا، یعنی بُش اور ٹونی بلیئر کا ہے، ماننا تو پڑے گا۔ قادر قریشی، ٹورانٹو، کینیڈا: کراچی یونیورسٹی کے غیر ملکی طلباء کو کب نکالیں گے؟ یا اب ملک میں دوقانون ہوں گے، مدرسوں کے لیے الگ، یونیورسٹیوں کے لیے الگ۔ محمد عظیم، فیصل آباد، پاکستان: یہ پابندی بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ طلباء کے انفرادی ریکارڈ کو دیکھے اور مدرسوں میں تعلیم کو کسی قاعدے کے اندر لائیں۔ سہرش خان، برلن، جرمنی: جی ہاں، حکومت کا یہ قدم بالکل ٹھیک ہے۔  | ایک مشتبہ بمبار کے لیے  سب کچھ اس لیے کہ ایک مشتبہ بمبار پاکستان کے ایک مدرسے میں گیا تھا۔ اسلامی تعلیمات کے اداروں پر پابندی سے مسلمان مزید دُور ہی ہوں گے۔  کوبازڈرو، برطانیہ |
کوبازڈرو، برطانیہ: اگرگھبراہٹ میں کیے گئے فیصلے کی کوئی مثال ہو سکتی ہے تو وہ یہی ہے۔ سب کچھ اس لیے کہ ایک مشتبہ بمبار پاکستان کے ایک مدرسے میں گیا تھا۔ اسلامی تعلیمات کے اداروں پر پابندی سے مسلمان مزید دُور ہی ہوں گے۔ ریحان شیخ، لاہور، پاکستان: وزارت تعلیم نے پچھلے پچاس سالوں میں جو تعلیم کا حشر کیا ہے وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ اب حکومت کا خیال ہے کہ تعلیم کا جو شعبہ ٹھیک چل رہا ہے اس بھی بیڑا غرق کیا جائے۔ پاکستان میں کسی بھی مدرسے میں دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ اس بات کی تحقیق کرنے کے بھی بہت سے طریقے ہیں لیکن افسر شاہی کا ہمیشہ سے دستور رہا ہے کہ وہ ڈبل سواری پر پابندی لگا دیتی ہے لیکن مسجدوں اور امام بارگاہوں پر فائرنگ کرنے والوں کا کچھ نہیں کرتی۔ اسد خان، دبئی: میرا خیال ہے یہ فیصلہ ٹھیک ہے کیونکہ ہمیں دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے۔ ہمیں نہیں پتا کہ کون پڑھنے آ رہا ہے اور کون دہشت گردی کے لیے۔، اس لیے یہ اچھا فیصلہ ہے۔ صفدر، جرمنی: سراسراحمقانہ فیصلہ۔ |