Friday, 20 May, 2005, 13:02 GMT 18:02 PST
نجیب اللہ مری بلوچ
بلوچ پاکستانی فوج کے زیرعتاب ہیں۔ چند ماہ قبل ایک فوجی کارروائی شروع ہوئی۔ فوجی آپریشن کا مقصد بلوچوں کو اجتماعی سزا دینا ہے کیوں کہ وہ فوج کے خلاف ہیں۔ بلوچوں کے خلاف سیاسی، اقتصادی اور سماجی بےانصافی پاکستان میں مستقل شکل اختیار کرگئی ہے۔۔۔۔
ڈیرہ بگتی میں حالیہ کارروائی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی۔ اس کا مقصد ایک چھوٹے قصبے میں عام شہریوں کو ہلاک کرنا تھا۔ پاکستانی فوج میں اسلامی انتہاپسند بااثر ہیں۔ انہوں نےکارروائی کےدوران ہندوؤں کے ایک مندر کو نشانہ بنایا جس میں بیس سے زائد ہندو بلوچ ہلاک ہوگئے۔ ان میں کئی عورتیں اور بچے تھے۔ طاقت دکھانے کے لئے فوج نے گن شِپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا۔۔۔۔
ایک حالیہ دورے پر جنرل پرویز مشرف نے سخت کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ چار جنوری کو انہوں نے اعلان کیا کہ ’یہ انیس سو ستر کا عشرہ نہیں ہے، اس بار آپ کو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ آپ ۔۔۔‘ بعض حلقوں میں اس بیان سے سمجھا گیا کہ فوج وسیع تباہی کے ہتھیار استعمال کرسکتی ہے۔۔۔۔
ہم بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی روکنے کے لئے پاکستانی فوج پر دباؤ ڈالے، اور اس لئے بھی کہ بلوچوں کے سیاسی نمائندوں سے بات چیت شروع ہو تاکہ پرامن مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کو حل کیا جاسکے۔
![]() ڈاکٹر امداد سمیت متعدد افراد اب بھی لاپتہ بتائے جاتے ہیں |
فوج اور پولیس نے یہاں چھبیس فروری کو کارروائی کی اور مری بلوچوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔ انہیں کوئی اسلحہ نہیں ملا۔۔۔۔
لگ بھگ چھپن افراد گرفتار کیے گئے تھے۔ ان کے گھروالوں کو ان کے بارے میں اب بھی کچھ پتہ نہیں ہے۔۔۔۔ دو ماہ قبل بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ارکان بھی گرفتار کیے گئے جن میں ڈاکٹر امداد بلوچ بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔۔۔۔
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کے لئے ہے تاکہ وہ اپنے مسائل کے بارے میں لکھ سکیں۔ ’آپ کی آواز‘ پر شائع ہونے والے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔