BBC navigation

کھوتی دا غصہ کمہیار تے !

آخری وقت اشاعت:  اتوار 1 جولائ 2012 ,‭ 12:59 GMT 17:59 PST

’حکومت ہو کہ ڈاکٹر ، کوئی یہ سامنے کی بات آخر کیوں سمجھے کہ صرف حقوق ہی اہم نہیں ہوتے ، فرائض بھی ذرا سے اہم ہوتے ہیں‘

کمہار پر بس نا چلا تو گدھے کے کان اینٹھ دیے۔

ڈگیا کھوتی توں تے غصہ کمہیار تے۔

بندر کی بلا طویلے کے سر۔

بھینسوں کی لڑائی میں گھاس کا نقصان۔

مجھے نہیں معلوم کہ پنجاب میں جونئیر ڈاکٹروں کی پندرہ روز سے جاری ہڑتال پر ان میں سے کون سا محاورہ چست بیٹھتا ہے لیکن انا پرست حکومتِ پنجاب اور ہوشیلے کم جوشیلے زیادہ ڈاکٹروں نے ایک دوسرے سے جو سینگ پھنسائے ہیں انکی نوکیں صرف مریضوں کو چبھ رہی ہیں۔

صوبائی حکومت اصول کا نیزہ اٹھائے کھڑی ہے اور نوجوان ڈاکٹر حق کی تلوار سونتے ہوئے ہیں مگر شہادت مریض کے حصے میں آ رہی ہے۔

جب سے پنجاب میں شہبازی حکومت آئی ہے صحت کا شعبہ ممولہ بن گیا ہے۔کبھی ڈینگی مچھر یلغار کرتا ہے تو کبھی جعلی ادویات کا اژدھا دل کے مریض نگل جاتا ہے تو کبھی اسپتال میں بجلی کا شارٹ سرکٹ نوزائدہ بچوں کو بار بی کیو بنا دیتا ہے۔کبھی نرسیں مال روڈ پر ڈنڈے کھاتی ہیں تو کبھی جونئیر ڈاکٹرخدمتِ انسانیت کے حلف نامے کو زمین پر بچھا کے اسی پر بیٹھ جاتے ہیں۔

کان سیدھا پکڑیں کہ گھما کے ، ہاتھ میں بیمار کا کان ہی آتا ہے۔ ڈاکٹروں کا سروس اسٹرکچر بھی سیدھا نہیں ہورہا اور مریض کا اسٹرکچر بھی اوندھا پڑا ہے۔

جونئیر ڈاکٹرز اور حکومتِ پنجاب کی طرح مجھے بھی دکھی انسانیت سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن ایک سوال ضرور کلبلا رہا ہے۔یعنی اگر قسمت شریف برادران پر اتنی مہربان نہ ہوتی اور انہیں کسی ہڑتالی او پی ڈی کی لائن میں لگنا پڑ جاتا تو پھر ان کا اصولی موقف کیا ہوتا ؟

اگر اپنا پیٹ کاٹ کر ڈاکٹر کو ڈاکٹر بنانے والے والدین نہ ہوتے اور یہ ڈاکٹر کے بجائے صرف ایک معمولی کارکن ہوتے اور بیمار ہوجاتے اور کوئی او پی ڈی ڈاکٹر انہیں دیکھنے سے انکار کردیتا تو پھر اس ڈاکٹر کے گلے میں وہ کتنے ہار ڈالتے ؟

"میں ڈاکٹروں کی جدوجہد میں شانہ بشانہ نعرے لگانا چاہتا ہوں۔اگر کوئی یہ بتا دے کہ ڈاکٹری حقوق کی علمبردار تنظیموں نے اپنے کتنے ارکان کو آج تک پیشہ ورانہ غفلت اور بقراطی حلف ( ہپوکریٹک اوتھ ) پامال کرنے کے الزام میں تنظیم سے نکالا ، یا انکی گوشمالی کی ، یا غفلت کا ہرجانہ بھروایا ؟ کتنے ڈاکٹر دوا ساز کمپنیوں کے دیے گئے قلم میں صرف ضمیر کی روشنائی بھر کے مسیحائی تجویز کرتے ہیں ؟ کتنے ڈاکٹر بلاجیب مریضوں کو بھی اسی جذبے سے دیکھتے ہیں جس زوق و شوق سے جیب دار مریضوں کی طرف دیکھتے ہیں ؟"

وسعت اللہ خان

تو کیا پنجاب کے جونئیر ڈاکٹر کو خیبر پختون خواہ ، سندھ اور بلوچستان کے جونئیر ڈاکٹرسے بھی کم تنخواہ اور مراعات مل رہی ہیں، یا باقی صوبائی حکومتیں کم ظالم ہیں ، یا ان صوبوں کے ڈاکٹروں کو اپنے حقوق کا شعور نہیں ، یا وہ پنجاب کے بہادر ڈاکٹروں کے مقابلے میں بزدل ہیں ؟

مگر اس پورے کھیل میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے بزرگ کہاں ہیں ؟ کیا انہوں نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے پیچھے پناہ لے رکھی ہے یا ینگ ڈاکٹرز ان کے قابو سے بھی باہر ہیں ؟

ہاں ! میں ڈاکٹروں کی جدوجہد میں شانہ بشانہ نعرے لگانا چاہتا ہوں۔اگر کوئی یہ بتا دے کہ ڈاکٹری حقوق کی علمبردار تنظیموں نے اپنے کتنے ارکان کو آج تک پیشہ ورانہ غفلت اور بقراطی حلف ( ہپوکریٹک اوتھ ) پامال کرنے کے الزام میں تنظیم سے نکالا ، یا انکی گوشمالی کی ، یا غفلت کا ہرجانہ بھروایا ؟ کتنے ڈاکٹر دوا ساز کمپنیوں کے دیے گئے قلم میں صرف ضمیر کی روشنائی بھر کے مسیحائی تجویز کرتے ہیں ؟ کتنے ڈاکٹر بلاجیب مریضوں کو بھی اسی جذبے سے دیکھتے ہیں جس زوق و شوق سے جیب دار مریضوں کی طرف دیکھتے ہیں ؟

ہاں ! میں حکومتِ پنجاب کے موقف کی حمایت میں دھڑلے سے لکھنا چاہتا ہوں اگر صرف یہ بتا دے کہ سستی روٹی کے تندور میں جھونکے جانے والے اربوں روپے موجودہ سرکاری سکولوں کو دانش سکول اور سرکاری اسپتالوں کو دانش اسپتال بنانے پر بھی تو لگ سکتے تھے۔۔۔اگر پولیس اور صوبائی بیوروکریسی کی تنخواہوں اور مراعات میں بہانے بہانے اضافہ ہوسکتا تھا تو ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے نے کونسی بکری چرا لی تھی ؟

مگر حکومت ہو کہ ڈاکٹر ، کوئی یہ سامنے کی بات آخر کیوں سمجھے کہ صرف حقوق ہی اہم نہیں ہوتے ، فرائض بھی ذرا سے اہم ہوتے ہیں۔۔۔

ایسی باتیں سمجھنے کے لیے گریبان ضروری ہے اور آج کل گریبان کا فیشن کہاں ؟؟ آپ تو جانتے ہی ہیں !!!

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔