پاکستان میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور تعلیمی اداروں کے بند ہونے پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے قارئین کا ردعمل:

پاکستان میں تعلیمی ادارے تو بند کر دیے گئے لیکن کیا اس سے خودکش حملے ختم ہو جائیں گے؟ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم دے کر کہا گیا تھا کہ سکیورٹی فراہم کرنے کے بعد تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے لیکن حکومت نے سکیورٹی مہیا کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ تو آخر تعلیمی ادارے بند ہی کیوں کیے گئے اور ہاسٹل کس لیے خالی کروائے جا رہے ہیں؟ کراچی یونیورسٹی تو پہلے ہی باقاعدگی سے طلبا میں تصادم کی وجہ سے یونیورسٹی مہینے میں دو تین دن کے لیے بند ہو جاتی ہے اور انتظامیہ کے پاس یونیورسٹی بند کرنے کے علاوہ کوئی حل نہیں ہوتا۔ تعلیم جس کا پہلے ہی بیڑا غرق ہو چکا ہے اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جا رہی ہے۔ حکمران اپنی سکیورٹی کو پورا کر لیں، عوام تو پہلے بھی اور اب بھی ہر روز جان ہتھیلی پر لے کر گھر سے نکلتے ہیں اور آئندہ بھی نکلتے رہیں گے۔

عام طور پر چھٹی کی خوشی ہر ایک (اساتذہ، بچے) کو ہوتی ہے لیکن ان چھٹیوں سے بچے بھی کوئی زیادہ خوش نہیں۔ ہمارے سکول میں آٹھ سو کے قریب طالب علم ہیں۔ یہ پڑھائی کے بہت اہم دن ہیں۔ حکومت نے خود خوف و ہراس پھیلا کر نئی نسل کو عجیب سا پیغام دیا ہے۔ ہم نے آج تمام بچوں کو ہوم ورک بذریعہ ایس ایم ایس بھیجا ہے، پڑھنا تو ہے۔ جو لوگ پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں، کوئی اچھا ٹیچر بن کر حکومت اور ان کی صلح کیوں نہیں کرواتا۔ کہتے ہیں کہ اگر اپنے دشمن بن جائیں تو دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔
کلاس میں اکثر بچوں کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں تو استاد ان کی صلح کروا دیتے ہیں یا جس بچے نے دوسرے کو کوئی نقصان پہنچایا ہوتا ہے اس کو ڈانٹ ڈپٹ کر دیتے ہیں۔ مظلوم بچہ خوش ہو جاتا ہے کہ چلو مجھے کوئی تو انصاف دلانے والا ہے۔ اگر استاد شکایت لگانے والے بچے کو ڈرا دھماکا کر بٹھا دیتا ہے، تو بچے سکول سے باہر جا کر ایک دوسرے سے بدلے لیتے ہیں اور پھر یہ لڑائیاں گھروں تک جاکر، مرنے مارنے تک پہنچ جاتی ہیں۔ انصاف بڑی ہی اچھی چیز ہے چاہے ٹیچر کریں یا حکمران۔ ہمارا ملک اس نا انصافی کی وجہ سے اس نہج تک پہنچا ہے۔ موجودہ حالات خاص طور پر سکول میں پڑھنے والے بچوں کے ذہنوں پر نہایت ہی خطرناک نقوش چھوڑیں گے جو بڑے گہرے ہوں گے۔ تعلیمی ادوروں کی بندش کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ معصوم چہروں پر عجیب سا خوف ہے جس کو پڑھنا ہمارے حکمرانوں کے بس کی بات نہیں۔
دہشت گرد تو خوش ہوں گے کہ وہ روزمرہ کے معاملات کو روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں
تعلیمی اداروں کو بند نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ طالب علم دہشت گردی سے نہیں ڈرتے۔ دہشت گرد تو خوش ہوں گے کہ وہ روزمرہ کے معاملات کو روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہوں گے۔ حکومت نے سکول عارضی طور پر بند کیے ہیں تو کیا حکومت چند ہی دنوں میں اس قسم کے واقعات کو روک لے گی یا حکومت یہ چاہتی ہے کہ ہم اس شدت پسندی سے ڈر جائیں؟ بہادر قومیں مشکل وقت کا بہادری سے مقابلہ کرتی ہیں گھر بیٹھ کر نہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے معمولات جاری رکھنے چاہیں۔
تعلیمی اداروں کی موجودہ صورت حال افسوسناک ہے۔ ہر عمر کے طالب علم مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ چھوٹے بچے تو حالات کی نزاکت کو بھی نہیں سمجھ سکتے اور اپنی تعلیم کے بارے میں بھی اتنے فکر مند نہیں ہوتے لیکن ان کے والدین تو پریشان اور ڈرے ہوئے ہیں۔ اسلامی یونیورسٹی میں اتنا افسوسناک واقعہ ہوا اور وہاں کے طلبا پریشان ہیں اور انہیں جانوں کے ضیاع پر غم ہے۔ چھٹیوں کی وجہ سے تعلیم کا ضیاع اور وقت کا ضیاع بھی۔ ہاسٹل بھی ختم ہو سکتے ہیں۔ عوام تو دل ہارے بیٹھے ہیں۔ ہر طرف خوف و ہراس ہے اور یہ صرف ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہے۔ ان حالات کو صحیح کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ انفردی اور اجتماعی سطح پر قرآن اور سنت پر عمل کیا جائے اور واحد حل توبہ ہے۔
پاکستان میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنی کہانی، آنکھوں دیکھا حال، تصاویر یا ویڈیو بی بی سی اردو کو بھیجنے کے لیے کلِک یہاں کلک کریں۔
© MMIX