
لاہور میں حملہ آوروں نے قریباً ایک ہی وقت میں پولیس کے دو تربیتی مراکز اور ایف آئی اے کے دفتر کو نشانہ بنایا
بی بی سی ارود ڈاٹ کام کے قاری نجیب الرحمان نے لاہور میں ایف آئی اے کے دفتر پر ہونے والے حملے کے بعد وہاں کا احول ہمیں بھیجا ہے۔
’’میں حسبِ معمول اپنے دفتر میں موجود تھا جو ایف آئی اے کی بلڈنگ، ٹمپل روڈ، سے لگ بھگ پانچ سو گز دور واقع ہے، جب ساڑھے نو بجے دور سے فائرنگ کی آوازیں آنی شروع ہوئیں۔ میں کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر فائرنگ کی آواز کے تعاقب میں نکلا۔
چند منٹ بعد میں ایف آئی اے بلڈنگ پہنچا جہاں پر پولیس کی بھاری نفری پہنچنا شروع ہوگئی تھی۔ پولیس نے ریگل چوک اور صفانوالہ چوک پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹمپل روڈ کو دونوں اطراف سے ہر قسم کی پبلک ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ جائے وقوعہ پر ریسکیو گاڑیوں، فائر بریگیڈ، پولیس، میڈیا اور ایمبولینسوں کے سائرنوں سے ماحول کی سنگینی و خوف و ہراس کا دور ہی سے تاثر ملا۔ اسی دوران مناواں ٹریننگ سکول اور بیدیاں روڈ پر واقع ایلیٹ فورس کے تربیتی مرکز پر دہشتگرد حملے کی خبریں بھی پہنچنا شروع ہو گئیں جس سے شہریوں میں خوف اور دہشت محسوس ہوئی۔

’میں حسبِ معمول اپنے دفتر میں موجود تھا جب فائرنگ کی آوازیں آنی شروع ہوئیں‘
میں ایف آئی اے بلڈنگ کے مین گیٹ کے سامنے پہنچا تو دیکھا کہ عمارت کی پہلی منزل پر پولیس کے چاق و چوبند جوان کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوزیشنیں لیے کھڑے تھے۔ ریسکیو کا عملہ سٹریچر لے کر عمارت کے اندر گیا اور چند منٹ بعد ایک خون آلود لاش واپس لے کر لوٹا اور ایمبولینس میں ڈال کر قریبی گنگا رام ہسپتال کی طرف روانہ ہوگیا۔ اسی طرح سات آٹھ منٹ کے وقفوں سے ریسکیو عملہ عمارت کے اندر سے لاشوں اور زخمیوں کو لاتا رہا۔ پولیس نے یہ اپریش ایک گھنٹے میں مکمل کیا اور پونے گیارہ بجے ایف آئی اے بلڈنگ کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔ میں نے دو سپاہیوں اور ایک شدت پسند کی لاش دیکھی۔
ایف آئی اے بلڈنگ کے سامنے واقع سیکرڈ ہارٹ سکول کے مین گیٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا اور کسی کو اندر آنے یا باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ سکول کے بچوں کو کلاس رومز سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا۔ بعدازاں، سکول میں چھٹی کر دی گئی اور والدین اپنے بچوں کو لینے پہنچنا شروع ہوئے جہاں پر جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔‘‘
© MMIX