Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 5 june, 2009, 14:54 GMT 19:54 PST

وہ جو بے گھر ہوئے۔۔

صوابی پناہ گزین کیمپ

بدھ دس جون کو سیربین ایک ’پناہ گزین کیمپ‘ سے نشر کیا جائےگا

پاکستان میں طالبان کے خلاف حالیہ فوجی آپریشن کی وجہ سے بےگھر ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً پچیس لاکھ ہوگئی ہے۔ سوات اور ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی اکثریت صوبہ سرحد اور ملک کے دیگر علاقوں میں اپنے رشتہ داروں اور شناساؤں کے گھروں میں کسم پرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں یا پھر حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے قائم کی جانے والی خیمہ بستیوں میں قیام پزیر ہیں۔

اپنے ہی گھر میں بے گھر ہونے والے یہ لوگ، جن میں سے کئی ایک کے عزیز طالبان اور فوج کی لڑائی میں ہلاک یا زخمی بھی ہوئے ہیں، کس طرح زندگی بس کر رہے ہیں اور وہ اپنے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اندرونی نقل مکانی کا انسانی چہرہ کیسا ہے اور ہم اور آپ سے کیا کہنا چاہتا ہے؟

یہ جاننے کے لیے بی بی سی اردو سروس نے متاثرہ لوگوں سے براہ راست بات کرنے کا انتظام کیا ہے۔ بدھ دس جون کو سیربین ایک ’پناہ گزین کیمپ‘ سے نشر کیا جائےگا۔ اس انٹر ایکٹیو پروگرام میں آپ ان لوگوں کی روداد سن سکتے اور ان سے ا ن کا حال بھی پوچھ سکتے ہیں۔پروگرام میں شریک ہونے کے لیے آپ صفحہ کے نیچے دیے گئے ای میل فارم کے ذریعے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو ہم سے ٹیلی فون نمبر 00 022 862 77 44 00 پر ایس ایم ایس کر سکتے ہیں یا urdu@bbc.co.uk پر ای میل بھی بھیج سکتے ہیں۔ اپنا ٹیلی فون نمبر اور نام ضرور لکھیے، ہم آپ سے خود رابطہ کریں گے۔

سننا نہ بھولیےگا، بدھ، دس جون، پاکستانی وقت کے مطابق شام نو بجے۔

Virtual keyboard

* ان خانوں کو پُر کرنا ضروری ہے

(زیادہ سے زیادہ حروف: 500)0

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔