| |
|
|
|
| یہ بی بی سی لندن ہے |

|
تعارف
لندن میں بی بی سی اردو سروِس کے براڈکاسٹرز کی ٹیم کے علاوہ ہمارے رفقاء کار پاکستان اور ہندوستان میں بھی مقیم ہیں۔ اسلام آباد سے ظفرعباس، کراچی سے ادریس بختیار، پشاور سے رحیم اللہ یوسفزئی اور ہارون رشید، لاھور سے شاہد ملک، حیدرآباد سندھ سے علی حسن، دلی سے شکیل اختر اور سری نگر سے الطاف حسین ہمیں تازہ ترین صورتحال کے بارے میں خبریں اور مراسلے بھیجتے ہیں۔ جبکہ وقتاً فوقتاً ہم پاکستان اور بھارت کے دوسرے صحافیوں کی خدمات بھی حاصل کرتے رہتے ہیںـ
سن انیس سو نوے میں بی بی سی اردو نشریات کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر راشد اشرف نے اردو سروس کے ارتقا کا جائزہ پیش کیا۔ یہ جائزہ چار ادوار پر محیط ہے۔
آغاز
سارے جہان سے اچھا ہندوستان ہمارا
لندن سے ہندوستان کی خدمت میں آداب
اس اعلان کے ساتھ 11 مئ 1940 کوگرینچ کے معیاری وقت کے مطابق تین بجکر بیس منٹ پر بی بی سی ہندوستانی سروس کی نشریات کا آغاز ذوالفقار علی بخاری نے کیا جو اس وقت آل انڈیا بمبئ ریڈیواسٹیشن کے سربراہ تھےـ اس اعلان کے بعد دس منٹ دورانئے کا خبرنامہ نشر کیا گیاـ اس وقت کی ہندوستانی سروس کے پیش روؤں میں آغا محمد اشرف، مشرف الحق، اقبال بہادر صرین، رفیق انور، اور اوات لعل بقایا شامل تھے، جبکہ بلراج ساہینی کی آواز بھی ریڈیائی لہروں پر ان کے ہم دوش رہی۔ بلراج ساہینی بعد میں ہندوستان کے مشہور فلم اداکار کے طور پر سامنے آئےـ
اپریل 1949 میں ہندوستانی سروس دو حصوں میں تقسیم ہو گئ، ایک حصہ پاکستان سروس اور دوسرا ہندوستان سروس کہلایاـ سترہ سال بعد، 1966 میں، پاکستان سروس اردو سروس بن گئ، اور بھارتی سیکشن نے ہندی سروس کا نام اپنا لیا، جبکہ بنگالی سیکشن ایک نئے شعبے کی صورت میں وجود میں آیاـ 1968میں حالاتِ حاضرہ کے پروگرام سیربین کا آغاز ہوا، جس نے جلد ہی پاکستان میں خبروں کے ایک آزاد اور قابلِ اعتبار ذریعے کے طور پر مقبولیت حاصل کرلی ـ پاکستان میں اس وقت فوجی آمریت کا راج تھاـ 1998 میں دن میں تین مرتبہ کی معمول کی نشریات کے علاوہ اردو سروس نے دوپہر کے وقت اپنی ایک اور مجلس نیمروز کا آغاز کیاـ
اس وقت بی بی سی اردو سروس سے خبروں، حالات حاضرہ کے تبصروں اور خصوصی فیچرز پر مبنی نشریات میں پہلی مجلس میں جہاں نما، دوسری مجلس میں سیربین اور تیسری مجلس میں شب نامہ پیش کیا جاتا ہے۔ |
|
|