BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
وسعت کا نیا بلاگ
 
 
حسن مجتبیٰ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر بلاگنگ کی نئی شروعات کے تحت ہم نے اپنے چند لکھنے والوں کو اس صفحہ پر لکھنے کی دعوت دی ہے۔ ان بلاگوں میں لکھنے والوں کی ذاتی آرا اور تجزیے شامل ہوتے ہیں جس کا بی بی سی کی پالیسی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ مکمل طور پر انفرادی خیالات اور ذاتی رائے کے اظہار کی جگہ ہے۔
اس صفحہ پر ہمارے قارئین بھی اپنا بلاگ شروع کر سکتےہیں۔ بلاگس پر قارئین کی اراء بھی اسی صفحے پر شائع کی جائیں گی۔ پہلے ہم نے دعوت دی ہمارے کالم نویس حسن مجتبیٰ کو اور اب ہمارے اگلے بلاگر مقبول کالم نگار وسعت اللہ خان ہیں۔
 

نام میں کیا رکھا ہے۔۔۔
سپین کے وزیرِ دفاع ہوزے بونو نے بری فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہوزے مینا اگوادو کو اختتامِ ہفتہ اپنے دفتر میں طلب کیا اور ان سے کہا کہ آپ کو فوری طور پر فوج کی سربراہی سے برطرف کرکے آٹھ روز کے لیے آپ ہی کے گھر میں نظربند کیا جارہا ہے۔ کیونکہ آپ نے یہ سیاسی بیان دے کر فوجی ڈسپلن پامال کیا ہے کہ اگر سپین کے علاقے کیتولونیا نے زیادہ خودمختاری حاصل کرلی تو سپین کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے اور ایسی صورت میں فوج مداخلت کرنے پر مجبور ہوسکتی ہے۔ وزیرِ دفاع نے بری فوج کے سربراہ سے کہا کہ جو کام سیاستدانوں اور حکومت کے سوچنے کا ہے اس میں آپ کو ٹانگ اڑانے اور بیان بازی کا کوئی حق نہیں تھا۔

میں سوچ رہا ہوں کہ اگر سپین کی بری فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہوزے مینا اگوادو کا نام ایوب خان، یحیی خان، ضیا الحق، اسلم بیگ، عبدالوحید کاکڑ، جہانگیر کرامت یا پرویز مشرف ہوتا تو ان کے حق میں کتنا اچھا ہوتا۔

وسعت اللہ خان
وقتِ ارسال
15:08
،
2006-01-13
’ہیپی نیو ائیر‘
سال دوہزار چھ کے پہلے سات روز میں کراچی کی سڑکوں پر دل کے بیس مریضوں نے اسپتال پہنچنے سے پہلے پہلے ٹریفک جام میں پھنسی ہوئی ایمبولینسوں میں جان دے دی۔ان بیس میں سے پانچ مریض صرف ایک دن یعنی سات جنوری کو شہر کی مختلف سڑکوں پر تڑپ تڑپ کر مر گئے۔وجہ یہ ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں پر تعمیراتی کام ہورھا ہے اور کچھ مرکزی شاہراہیں کئی کئی گھنٹے وی وی آئی پی موومنٹ کے نام پر بند رہتی ہیں جس کے نتیجے میں باقی سڑکوں پر ٹریفک جام رہتا ہے۔

جتنی اموات کراچی کی ایمبولینسوں میں ایک ہفتے کے دوران ہوئی ہیں وہ شمالی علاقوں میں سردی کے سبب پچھلے ایک ماہ کے دوران مرنے والوں سے زیادہ ہیں۔

ایک تو عام لوگوں میں یہ شعور کم ہے کہ وہ چیختی دھاڑتی ایمبولینسوں کوراستہ دے دیں ۔دوسرے وی وی آئی پی موومنٹ کو محفوظ بنانے کے لئے شاہراہیں بند کرنے کے زمہ دار پولیس افسروں کے سامنے بھی دو چوائسز ہیں یا تو اپنی نوکری بچائیں یا پھر مریض کے لواحقین کی چیخ و پکار پر رحمدلی دکھا کر ایک نان وی وی آئی پی زندگی بچا لیں۔
تو کیا میں اب ہیپی نئیو ائیر کہہ ڈالوں ؟؟؟

وسعت اللہ خان
وقتِ ارسال
15:03
،
2006-01-10
’دشمن مرے، خوشی نہ کریئے‘
صدر پرویز مشرف کو درازیِ عمر کی دعائیں دینے والا اسرائیل کا وزیر ا‏عظم ایریئل شیرون موت و حیات کی آخری کشمشکش میں ھے۔

میں تو ٹہرا میاں محمد بخش کے اس کلام میں یقین رکھنے والا کہ ’دشمن مرے، خوشی نہ کریئے، سجناں بھی ٹر جانا،‘ لیکن میں کچـھ ایسے لوگوں کو جانتا ھوں جو کل یاسر عرفات کے کوما میں جانے پر خوش تھے اور آج انہیں میں نے غمگین دیکھا۔

مجھے بہت دن پہلے سان فرانسسکو کا ایک سفر اور فلسطینی ٹیکسی ڈرائیور یاد آیا۔ یہ سن ننانوے کی چار جولائی تھی اور کارگل کا قضیہ جاری تھا اور نواز شریف امریکہ کے دورے پر تھا۔ اس فلسطینی ٹیکسی ڈرائیور نے کہا ’یہ نواز شریف پھر یہاں کون سا ’گنا‘ چوسنے آیا ھے۔‘ اس ڈرائیور نے تو خیر گنے سے کافی نرم لیکن صرف انگریزی میں قابلِ اشاعت لفظ استعمال کیا تھا۔ ’عرفات کےلیے تم کیا کہو گے؟‘ ھم میں سے اس کی کسی سواری نے پوچھا۔ ’وہ ایک تنہا بیچارہ کیا کرے اسکے خلاف تو دنیا کی چھپن حکومتیں ہیں،‘ فلسطینی ٹیکسی ڈرائیور نے کہا۔ کارگل کی اس آخری کییوئیلٹی وزیر اعظم نواز شریف کو کل ٹی وی پر دیکھا تو مجھے لگا کہ ان چھ برسوں میں اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو صرف اس کے سر پر اگ آنے والے بال ہیں۔

پیرس میں ایک پاکستانی ریستوران کے سامنے والے ہسپتال میں مرجانے والے عرفات کے متعلق ’سازشی تھیوری‘ ایک یہ بھی اٹھی تھی کہ اسے زھر دیا گیا جس کی میرے پاس اس کے کوئی معروضی اسباب اور خبریں یا افواہیں تک نہیں۔

آخری دنوں میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیاں جس طرح سخت گیر جلاد صفت رھنما شیرون غیر متوقع طور پر لچک لے آیا تھا اس نے اسرائیل کی ہاکش فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمینٹ کو اپنے لہو کا پیاسا ضرور بنا لیا ھوگا۔ بقول اخبار جیروسلم پوسٹ کے فلسطیینی علاقوں میں یہودی بستیوں کو مسمار اور خالی کروانا ایک ایسا عمل تھا جو یتزاک رابن جیسا رہنما بھی نہیں کرسکا تھا اور یہ عمل وہ شیرون کررھا تھا جو کبھی ان یہودی بستیوں کی تعمیر کا بڑا چیمپیئن تھا۔

قطع نظر ’یہود و ھنود کی سازشوں‘ اور ھمارے پاسپورٹ پر تحریر شدہ ’دنیا کے تمام ممالک کیلیے سوائے‎ اسرائیل کے‘ نیویارک میں ’منی پاکستان‘ کہلانے والے آئیلینڈ ایونیو کے سب سے پرانے پاکستانی باشندے نے مجھ سے ایک دن کہا: ’شروع شروع میں میں اس یہودی اکثریتی آبادی میں پاکستانیوں کے آکر رہنے کی وجہ ’کوشر‘ کی دکانیں تھیں جو کہ اسلامی حلال گوشت کے قریب ھے۔‘

حسن مجتبیٰ
سان ڈیاگو
وقتِ ارسال
14:07
،
2006-01-08
’تنہائی کے سو سال‘
پرسوں گزرے ہوئے سال کے آخری دن، سورج کی پہلی کرن کے ساتھ میں نے سر پر ہیٹ پہنی، ہاتھ میں گابریئیل گارشیا مارکیئز کی ناول ’تنہائی کے سو سال‘ پکڑی اور جنوب سے شمال کی جانب عازم سفر ہوا، جہاں سان فرانسسکو اور سان ہوزے ہے اور جہاں میرے دوست ہیں۔

دل نےچاہا کہ نئے سال کی شب سان فرانسسکو میں کاسٹرو اسٹریٹ پر گزاری جائے۔

وہ اسی سالہ بزرگ خاتون بھی سان فرانسسکو میں رہتی ہیں جنہوں نے اس انگریز فوجی افسر سے شادی کی، جس نے جلیانوالہ باغ ميں مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کردیا تھا۔ میں سوچ رہا ہوں کیا کوئی پنجابی فوجی افسر بلوچوں پر گولی چلانے سے انکار کرسکے گا؟ کیا آپ کو لاہور میں کبھی لگنے والا وہ نعرہ یاد ہے ’جناں ڈھاکے بم چلائے۔۔۔۔۔‘

اوریہ 'غدر پارٹی ہال'، یہ کسی ایرانی کا 'آب زم زم' کے نام پر شراب خانہ، یہ ایشبری اور ہائیٹ پر ادھیڑ عمر ھپی جن میں سے بہت سے اب یپی بن چکے ہیں۔ یہ سب کچھ سان فرانسسکو میں ہوتا ہے۔ یہ ایشبری اور ہیٹ سٹریٹ جہاں سے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں اٹھنے والی ہپی تحریک تمام امریکہ اور دنیا میں پھیل گئی۔ وہاں ایک سے ایک جگر اور خفتی لوگ ہیں۔ وہ کبھی ’امراؤ جان ادا‘ تو کبھی منٹو کی ’کھول دو‘ تو کبھی ہندوستان میں ایم ایف حسین کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کی چلائی ہوئی مہم کے خلاف ڈرامے کرتے رہتے ہیں۔

’روٹی‘ اور ’چٹنی‘ نام کے پاکستانی ریستوران اور انکے باہر ٹینڈرلم پر بے گھر لوگوں کے ٹولے، کاسٹرو اسٹریٹ پرسے گذرتے ہوئے مرد جوڑے نے ایک دوسرے کو ہونٹ چومتے ہوئے بائی کہا۔ ہم نے نئے سال کی اس رات تھوڑی سی شراب پی اور ڈی وی ڈی پر ہندوستانی فلموں کے قوالیوں اور مجروں والے گانے دیکھے:’اس شہر میں تم جیسےدیوانے ہزاروں ہیں۔‘

’میلے کے ہجوم میں مکنڈو کے پریشان باسیوں نے خود کو اپنی ہی گلیوں میں گم ہوتے ہوئے پایا۔۔۔‘ مجھے اس چاند رات نما جاتے سال کی آخر شب سان فرانسسکو کی گلیوں میں چلتے ہجوم کو دیکھ کر مارکئيز کی ’تنہائی کے سو برس‘ میں لکھا ہوا یہ جملہ یاد آیا۔

حسن مجتبی
سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
وقتِ ارسال
13:50
،
2006-01-07
اوشا ، ریما اور رینا کے نام
اگر آپ اسلامی جہموریہ پاکستان یا سرزمین پاک کی مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے شہری ہیں تو آپکی جوان ہوتی ہوئی بچیوں کی زندگی کا فیصلہ انکے ہاتھ میں نہیں بلکہ مولوی اور مدرسے کے ہاتھ میں ہے-
کراچی کی پنجاب کالونی کی گلی نمبر ایک میں رہنے والے ہندو شہری سانو امرا اور اسکی بیوی چمپا کے ساتھ بھی یہی ہوا- تین جوان لڑکیوں کے والدین سانو اور چمپا جب کام سے گھر واپس آئے تو دیکھا کہ انکی تینوں بیٹیان اوشا، ریما اور رینا گھر سے غا‎ئب تھیں-
ایک سو پچیس مسلمان خاندانوں کے گھر کے درمیاں واحد ہندوؤں کے گھر کے مکین چمپا اور سانو کو
کچھ دنوں بعد ڈاک سے ایک لفافہ ملا جس میں ان بچیوں کی تین حلف نامے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ 'اپنی مرضی سے تبدیلیِ مذہب کرکے ہندو سے مسلمان ہوچکی ہیں- اب انکے نام ندا، افشاں اور انعم ہیں۔' ان بچیوں کے ایسے حلف ناموں کے ساتھ، سانو امرا کو اسی ڈاک میں 'اسلام نامہ' کے نام سے ایک دستاویز بھی ملا جو بنوری ٹائون کے مدرسے سے جاری کیا گیا تھا – اس 'اسلام نامے' میں لڑکیوں کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ 'بلا کسی جبر، ارکان اسلام کی تعلیم کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہو چکی ہیں۔'
ان 'دائرہ اسلام ' میں داخل ہونیوالی بچیوں سے جب انکے ماں باپ ایک مدرسے کی ہوسٹل میں ملنے گئے تو وہ سر سے پاؤں کی ایڑی تک برقعے میں تھیں اور انہوں نے ماں باپ کو بتایا کہ انہوں نے ٹی وی چینلوں پر 'اسلامی پروگرام دیکھ کر اسلام قبول کیا ہے-
اب یہ جنت مدرسے کے مولویوں نے جیتی کہ پاکستان میں پرائیوٹ چینل والوں نے! لیکن کراچی سے لیکر سندھ کے آخری اسٹیشن ریتی تک ہندو لڑکیوں اور عورتوں کو غیر رضارکارانہ یا 'رضارکارانہ' طور مسلمان بنانے کی مہمات زوروں پر ہیں- ریتی میں وہ تیرہ سالہ ہندو بچی کوشیلیا کو بھی مسلمان بنایا گیا ہے تو جیکب آباد کی سونیا کو فاطمہ تو سپنا کو مہک!
مشرف کے پاکستان میں کہیں مرکز مضبوط ہورہا ہے تو کہیں اسلام عام۔
لیکن جب ایک ہندو مرد مسلمان ہوکر شیخ عبد اللہ کہلایا اور اس نے ایک مسلمان بیوہ سے شادی کی تو اس بیوہ کو اسکے رشتیداروں نے 'غیرت کے نام' پر قتل کردیا- اب یہ عبد اللہ نہ ہندو ہے اور نہ مسلمان!

حسن مجتبٰی ،سان ڈیاگو' کیلیفورنیا
وقتِ ارسال
11:18
،
2006-01-05

 گزشتہ بلاگ
 
 
آپ کی رائے
زلزلے کے لئے دفاعی بجٹ کم نہیں: مشرف
 
 
عدنان کی ڈائری: ’مجھے آگے جانا ہے، خداحافظ‘’ماہ رخ بھی چلی گئی‘
عدنان کی ڈائری: ’مجھے آگے جانا ہے، خداحافظ‘
 
 
’آنکھوں میں خون جم گیا ہے‘طیبہ کی کہانی
’میری آنکھوں میں خون جم گیا ہے‘
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد