BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 09:33 GMT 14:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
دہشت گردی روکنے کا عزم
 
افغان صدر، بھارتی وزیر اعظم (فائل فوٹو)
افغانستان کے صدر پانچ ماہ میں دوسری بار بھارت کا دورہ کر رہے ہیں
افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ہندوستانی دورے کے دوران دہشتگردی اور آپسی تعاون بات چیت کا محور رہے۔

صدر حامد کرزئی گزشتہ روز دو دن کے ہندوستان کے دورے پر آئے تھے۔

حامد کرزئی کاگزشتہ پانچ مہینوں میں یہ دوسرا ہندوستانی دورہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم منموہن سے ملاقات کے دوران ممبئی میں ہوئے شدت پسند حملوں کے بعد حالات اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے آپسی تعاون پر بات چیت کی۔

دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ چونکہ دہشت گردی بعض ممالک میں ان کی پناہ گاہوں اور تربیت گاہوں سے فروغ پاتی ہے اس لیے سبھی ممالک پر لازمی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی دہشت گردی روکنے کے لیے باہمی، کثیر ملکی اور بین الاقوامی معاہدوں کی مکمل پاسداری کریں۔

کرزئی نے اس دورے کے دوران ممبئی حملوں پر افغانستان اور اسکے عوام کے جذبات اور بھارت کے ساتھ اپنے یکجہتی کا اظہار کیا۔

کرزئی کے اس دورے کے دوران شدت پسندی کے علاوہ باہمی تجارت پر بات چیت ہوئی۔ دونوں ممالک نے ایک بار پھرکہا کہ وہ ایک مضبوط، اور خوشحال افغانستان اور پورے خطے ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پابند ہیں۔

شدت پسندی سے نمٹنےکے لیے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔

ہندوستان کے اپنے پچھلے دورے کے دوران صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ دہشتگردی کو ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات کے درمیان حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہندوستان اور افغانستان دونوں کو دہشتگردی و بے رحم اور قاتلانہ سرگرمیوں کے چیلنج کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک خطے اور پوری دنیامیں امن و استحکام سبھی کے لیے فائدہ مند ہے۔’ہم اس حقیت کو سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک اور پوری دنیا متحد ہوکر ہی دہشتگردی کی لعنت کا مقابلہ کرسکتی ہے۔‘

واضح رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں کابل میں ہندوستان کے سفارت خانے پر حملے کے لیے کرزئی نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس حملے میں ایک اعلی آئی ایف ایس اہلکار سمیت چار ہندوستانی ہلاک ہوئے تھے۔

سفارت خانے پر حملے کے بعد کرزئی کے ہندوستان کے دورے کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ حملہ ’ہندوستان اور افغانستان کی دوستی پر حملہ تھا، ہم نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ہم دہشتگردی کو اپنے تعلقات کے درمیان حائل نہیں ہونے دیں گے۔‘

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد