BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 00:48 GMT 05:48 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ڈیرہ دون کا ’ننھا بل گیٹس‘
 

 
 
امان رحمان
امان نےاینیمیشن کا پندرہ ماہ کا کورس تین ماہ میں مکمل کر لیا
بھارت میں ایک آٹھ سالہ بچہ کمپیوٹر اینیمیشن میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اس کی تعلیم دے رہا ہے۔

ریاست اتر اکھنڈ کے شہر ڈیرہ دون سے تعلق رکھنے والے امان رحمان نے تین برس کی عمر سے کمپیوٹر کا استعمال شروع کیا تھا اور وہ اب تک ایک ہزار سے زائد اینیمیٹڈ فلمیں بنا چکے ہیں۔

جب آپ ڈیرہ دون پہنچیں اور امان کے بارے میں معلوم کریں تو ایسا لگتا ہے کہ شہر کا ہر فرد’ کمپیوٹر والے بچے‘ کو جانتا ہے۔ انہیں شہر بھر میں ’ننھے بل گیٹس ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

امان کی والدہ شبنم رحمان کے مطابق’ ان کے والد اپنے سب سے بڑے بیٹے کے لیے ایک پرانا کمپیوٹر خرید کر لائے تھے۔ ہم نے سوچا بھی نہ تھا کہ ہمارا سب سے چھوٹا بیٹا اس مشین میں اتنی دلچسپی لینے لگے گا۔ امان اپنے بھائی کو کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے بہت غور سے دیکھتا تھا اور جب وہ کالج چلاجاتا تو امان چھپ کر اس کے کمپیوٹر پر کام کرتا۔ اس وقت تو مجھے بہت ڈر لگتا تھا لیکن اس نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے‘۔

امان اب کالج میں اینیمیشن کی تعلیم دیتا ہے

امان کے والد جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک موٹر سائیکل مکینک ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے ابتداء میں اپنے بیٹے کی اس صلاحیت پر توجہ نہیں دی۔ اپنے دوستوں کے کہنے پر میں نے اسے کچھ کمپیوٹر ماہرین سے بھی ملوایا مگر انہوں نے بھی اس کے کام کو سنجیدگی سے نہ لیا‘۔

تاہم اس کے بعد امان کے والد کی مسلسل درخواستوں پر ڈیرہ دون کالج آف انٹرایکٹو آرٹس کے حکام نے امان کی کمپیوٹر صلاحیتوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور اس کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسے اپنے ہاں داخلہ دے دیا۔کالج میں امان نے ایک ماہ کے اندر اپنا پہلا کمپیوٹر پروگرام لکھا اور اینیمیشن کا پندرہ ماہ پر مشتمل کورس تین ماہ ہی میں مکمل کر لیا۔

اب امان گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں ’ینگ اچیورز‘ کے شعبے میں اپنا نام درج کروانا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں کمسن ترین کمپیوٹر اینیمیٹر ہوں۔ میری عمر کا کوئی بچہ اینیمینشن فلمیں نہیں بناتا‘۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد