|
ستّیم میں کروڑوں کی بدعنوانی
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں کمپیوٹر کی معروف کمپنی’ستّیم کمپیوٹر‘ کے چیئرمین رامالنگ راجو نے کمپنی کے کھاتوں میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں
کا اعتراف کیا ہے اور اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔
گزشتہ کچھ روز سے اس کمپنی پر کئی طرح کے الزام لگتے رہے تھے اور اس تازہ خبر سے شیئر بازار میں اس کی قدر میں ستر فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے اور شیئر بازار میں مجموعی طور پر ساٹھ فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق رامالنگ راجیو نے کمپنی میں سات ہزار کروڑ روپے کی جعل سازی کی بات کو تسلیم کرلیا ہے۔ چیئرمین رامالنگ نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے کمپنی نے جو سالانہ نتیجے جاری کیے گئے تھے اس میں منافع کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔ ان پر ستیم کے پیسوں سے اپنے بیٹوں کی کمپنی کی مدد کرنے کا بھی الزام ہے۔ ہندوستان کے ایوان صنعت وتجارت اور کئی اقتصادی ماہرین نے اسے بھارت میں ایک بڑی جعل سازی سے تعبیر کیا ہے اور اس واقعے پر صدمے کا اظہار کیا ہے۔ کئی لوگوں نے کمپنی کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی بینک نے حال ہی میں ستّیم کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے کمپنی کی شبیہ کو دھچکا لگا تھا۔ کمپنی نے حال ہی میں بہت سے ملازمین کو بھی نکال دیا تھا۔ اس کمپنی کو رامالنگ نے اپنے بھائی ڈی ویس راجو کے ساتھ مل کر سنہ انیس سو ستاسی میں حیدرآباد میں قائم کیا تھا۔ کمپنی نے تیزی سے ترقی کی اور عالمی سطح پر اسے شہرت ملی۔ اس کمپنی میں تقریبا ساٹھ ہزار ملازمین کام کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس کمپنی میں گراوٹ کی باتیں اس وقت شروع ہوئی جب گزشتہ ماہ مسٹر راجیو نے ایک پرائیویٹ کمپنی’مائٹاس پراپرٹی لمیٹیڈ‘ اور’مائٹاس انفرا لمیٹیڈ‘ کو خریدنے کی کوشش کی۔ ان دونوں کمپنیوں کے مالک مسٹر راجیو کے بیٹے ہیں۔ لیکن سرمایہ کاروں کی طرف سے اعتراض کے بعد بولی لگانے کے چندگھنٹے بعد ہی انہوں نے یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ اب راما لنگ نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ کمپنی خریدنےکی وجہ در اصل’ نقلی اثاثے کو حقیقت کا روپ دینے کی ایک آخری کوشش تھی۔‘ انہوں نے یہ بات بھی کہی ہے کہ کمپنی نے اپنے کھاتوں میں پانچ ہزار چالیس کروڑ روپے کا مصنوعی اضافہ کر کے تین سو سینتیس کروڑ کا سود کو کمانے کو ظاہر کیا تھا اس کی در اصل کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کمپنی میں راجیو کی فیلمی کا تقریبا ساڑھے تین فیصد ہے شیئر ہے اور زیادہ تر سٹیک سرمایہ کاروں ہے۔ |
اسی بارے میں
کساد بازاری، شادیوں کا بجٹ کم26 December, 2008 | انڈیا
بیس ہزار کروڑ روپے کے پیکج کا اعلان 07 December, 2008 | انڈیا
’عالمی مندی: انڈیا کے لیے خطرہ‘ 03 November, 2008 | انڈیا
’مالی بحران پرمزید قدم اٹھائیں گے‘ 15 October, 2008 | انڈیا
فکر کی کوئی بات نہیں: چدمبرم08 October, 2008 | انڈیا
انڈیا میں سود کی شرح میں اضافہ 01 July, 2008 | انڈیا
انڈیا میں افراطِ زر کی ریکارڈ شرح28 June, 2008 | انڈیا
پارلیمان کے بعد اب سٹاک میں تیزی23 July, 2008 | انڈیا
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||