|
ممبئی، استعفوں کا سلسلہ جاری
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعلٰی آر آر پاٹل نے سوموار کے روز اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا جبکہ وزیر اعلی ولاس راؤ
دیش مکھ نے مستعفی ہونے کی پیش کش کی ہے۔
مسٹر پاٹل نے اپنا استعفٰی وزیر اعلٰی ولاس راؤ دیشمکھ کو پیش کر دیا۔ اس سے قبل مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل بھی مستعفی ہوگئے تھے۔ پاٹل نے ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر یہ استعفٰی دیا ہے۔ وہ ممبئی پر کیے گئے حملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی اور عوام کی جانب سے پاٹل کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ممبئی جیسے شہر میں ایسی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس مرحلے پر پاٹل کا استعفا غیر متوقع ہے کیونکہ اس سے قبل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے پاٹل کو برطرف کرنے کی بات کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ ملک میں استعفے کا دور چلا ہوا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نے استعفٰی دے دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دراصل کانگریس حکومت پاٹل کے استعفے کے لیے این سی پی پر دباؤ بنانا چاہتی تھی اس لیے شیو راج پاٹل کو مستعفی ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔ دوسری جانب مہاراشٹر کے وزیر اعلٰی ولاس راؤ دیشمکھ پر استعفے دینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ وزیر اعلٰی نے گزشتہ روز یہ سوال پوچھےجانے پر اس سے انکار کیا تھا۔ وزیر اعلٰی پر اس وقت بھی تنقید ہوئی جب وہ تاج محل ہوٹل کا دورہ کرنے گئے تو ان کے ساتھ ان کے بالی وڈ اداکار بیٹے رتیش دیمشکھ اور فلمساز رام گوپال ورما بھی تھے۔ اتوار کو تاج محل اور ہوٹل اوبیرائے اور کیفے لیوپولڈ میں عوام نے پر امن احتجاج کیا۔ ان کے ہاتھوں میں پوسٹر تھے اور تقریباً ہر کسی نے ممبئی پر حملوں کے لیے ریاست کی سیاسی پارٹیوں کو ذمہ دار قرار دیا۔ |
اسی بارے میں
چدمبرم نئے وزیر داخلہ30 November, 2008 | انڈیا
ناری من ہاؤس کا ہیرو حنیف01 December, 2008 | انڈیا
امریکی وزیر خارجہ انڈیا جائیں گی01 December, 2008 | انڈیا
دہشت گردی کی روک تھام کے نئے اقدامات، ریاستی وزیر بھی مستعفی01 December, 2008 | انڈیا
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||