|
’حملوں کا کڑا جواب دیا جائےگا‘
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے نئے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ عہدے سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے
انہوں نے کہا کہ حملے ممبئی پر نہیں بلکہ ہندوستان کے تصور اور اس کے سیکولر کردار پر ہیں۔
ممبئی حملوں کے بعد شدت پسندی سے نمٹنے میں ناکام رہنےکے الزامات اور سیاسی حلقوں سے زبردست دباؤ کے بعد شوراج پاٹل نے استعفی دے دیا تھا۔ نئے وزیرِ داخلہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں سخت الفاظ میں کہا کہ ممبئی پر شدت پسندوں نے جو حملہ کیا ہے وہ ہندوستان کے تصور پر حملہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ہندوستان کی عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ان حملوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی اور اسکا کڑا جواب دیا جائے گا۔ پی چدمبرم کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزارت داخلہ کا عہدہ ابھی ابھی سنبھالا ہے اور ایک دو دن میں وہ جب وزارات کے سارے مسائل سمجھ لیں گے تب شاید بہتر ڈھنگ سے یہ بتا پائیں گے کہ شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں ہندوستان کی پالیسیاں کیا ہونگی۔ حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کی جنگ سختی سے لڑی جائے لیکن اس کے لیے انہیں ریاستی حکومتوں کے عوام اور ديگر اداروں کی مدد درکار ہوگی۔ نئے وزیر داخلہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ حملوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جا رہا ہے اس بارے میں ہندوستان نے پاکستان سے کوئی شکایت کی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی اس طرح کے سوالات کا جواب نہیں دے سکتے ہیں۔ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان کی وزارات داخلہ، خفیہ اداروں اور حکومت کی زبردست نکتہ چینی ہو رہی ہے۔ سابق وزیرخزانہ چدمبرم نے
ایک ایسے وقت میں وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالا ہے جہاں نہ صرف انہیں شدت پسندی جیسے پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے بلکہ اندرونی سکیورٹی
اور پاکستانی سے کشیدہ تعلقات پر بھی نئے طریقے سے غور کرنے کا دباؤ ہے۔ |
اسی بارے میں
جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا
ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||