|
’تقریباً سبھی حملہ آور پاکستانی تھے‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے کہا ہے کہ اب یہ بات طے ہوگئی ہے کہ ممبئی میں مختلف مقامات پر حملے کرنے والے افراد میں سے تقریباً سبھی کا تعلق
پاکستان سے تھا۔
نائب وزیر داخلہ شکیل احمد نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کو ایک پاکستانی جزیرے پر تربیت فراہم کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جس ایک حملہ آور کو گرفتار کیا گیا ہے، اس نے اپنا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا ہے لیکن سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حملوں کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بھی کہا تھا کہ ان حملوں کی کڑیاں پاکستان تک جاتی ہیں۔
مسٹر شکیل احمد نے کہا کہ ہلاک کیے جانے والے حملہ آوروں کے نام معلوم ہوگئے ہیں اور ان کے پاس سے ہندوستانی تعلیمی اداروں کے فرضی شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ مسٹر شکیل احمد نے کہا کہ: ’ ابھی حکومت ہند نے یہ نہیں کہا ہے کہ حملوں میں پاکستانی حکومت کا ہاتھ تھا۔۔۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کے خلاف حملے کرنے میں پاکستان کی زمین کا استعمال ہورہا ہے۔‘ ’جو شخص گرفتار ہوا ہے وہ فریدکوٹ کا رہنے والا ہے اور اس نے بھی بہت سی باتیں بتائی ہیں۔ کہاں کہاں تربیت ہوئی، کیا کیا ہوا یہ سب باتیں اس نے بتائی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اسی لیے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایس آئی کے اہلکاوروں کو بھیجے کیونکہ’ ۔۔۔ ہمارے پاس شواہد ہیں کہ (پاکستان) کی زمین ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہے اور ان حملوں میں ان کے لوگ ملوث ہیں۔‘ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان کی جانب سے الزام تراشی کا تعلق انتخابی سیاست تو نہیں، ہندوستانی وزیر نے کہا کہ ’ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوئے ہیں، لیکن اتنے ٹھوس ثبوت پہلے کبھی نہیں ملے۔‘ مسٹر احمد نے اعتراف کیا کہ انٹیلی جنس کے نظام میں کمی رہی لیکن اس کی تفصیلات مکمل انکوائری کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔ |
اسی بارے میں
ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا
ہیمنت کر کرے کون تھے29 November, 2008 | انڈیا
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||