BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 November, 2008, 13:04 GMT 18:04 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’تقریباً سبھی حملہ آور پاکستانی تھے‘
 

 
 
شکیل احمد
شکیل احمد کے بیان سے قبل وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بھی شبہہ کی انگلی پاکستان کی طرف اٹھائی تھی۔
ہندوستان نے کہا ہے کہ اب یہ بات طے ہوگئی ہے کہ ممبئی میں مختلف مقامات پر حملے کرنے والے افراد میں سے تقریباً سبھی کا تعلق پاکستان سے تھا۔

نائب وزیر داخلہ شکیل احمد نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کو ایک پاکستانی جزیرے پر تربیت فراہم کی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق جس ایک حملہ آور کو گرفتار کیا گیا ہے، اس نے اپنا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا ہے لیکن سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

حملوں کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بھی کہا تھا کہ ان حملوں کی کڑیاں پاکستان تک جاتی ہیں۔

 ابھی حکومت ہند نے یہ نہیں کہا ہے کہ حملوں میں پاکستانی حکومت کا ہاتھ تھا۔۔۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کے خلاف حملے کرنے میں پاکستان کی زمین کا استعمال ہورہا ہے
 
شکیل احمد

مسٹر شکیل احمد نے کہا کہ ہلاک کیے جانے والے حملہ آوروں کے نام معلوم ہوگئے ہیں اور ان کے پاس سے ہندوستانی تعلیمی اداروں کے فرضی شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔

مسٹر شکیل احمد نے کہا کہ: ’ ابھی حکومت ہند نے یہ نہیں کہا ہے کہ حملوں میں پاکستانی حکومت کا ہاتھ تھا۔۔۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کے خلاف حملے کرنے میں پاکستان کی زمین کا استعمال ہورہا ہے۔‘

’جو شخص گرفتار ہوا ہے وہ فریدکوٹ کا رہنے والا ہے اور اس نے بھی بہت سی باتیں بتائی ہیں۔ کہاں کہاں تربیت ہوئی، کیا کیا ہوا یہ سب باتیں اس نے بتائی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اسی لیے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایس آئی کے اہلکاوروں کو بھیجے کیونکہ’ ۔۔۔ ہمارے پاس شواہد ہیں کہ (پاکستان) کی زمین ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہے اور ان حملوں میں ان کے لوگ ملوث ہیں۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان کی جانب سے الزام تراشی کا تعلق انتخابی سیاست تو نہیں، ہندوستانی وزیر نے کہا کہ ’ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوئے ہیں، لیکن اتنے ٹھوس ثبوت پہلے کبھی نہیں ملے۔‘

مسٹر احمد نے اعتراف کیا کہ انٹیلی جنس کے نظام میں کمی رہی لیکن اس کی تفصیلات مکمل انکوائری کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔

 
 
تاج ہوٹل(فائل فوٹو) ’موت کا بلاوا تھا‘
اخلاق اسی روز نوکری ڈھونڈتے ممبئی آیا تھا
 
 
تاج ہوٹل تاج ہوٹل ایکشن
ممبئی حملے: کارروائی کا آخری روز
 
 
وہ ساٹھ گھنٹے ۔ ۔
جب ممبئی کی روح یرغمال بنی ہوئی تھی
 
 
میڈیا، پولیس کردار
پولیس اور میڈیا کا رویہ ایک جیسا
 
 
تاج کے کبوتر۔۔۔
تاج ہوٹل پر کارروائی میں کبوتروں پر کیا بیتی؟
 
 
تاج ہوٹل(فائل فوٹو) وڈیو اور تصاویر
ممبئی میں حملے کی تصاویر اور وڈیو جھلکیاں
 
 
اسی بارے میں
ہیمنت کر کرے کون تھے
29 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد