|
ٹی وی ورکرز کی ہڑتال ختم
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ ملازمین نے تنخواہ میں اضافہ اور بہتر سہولیات جیسے مطالبات کے لیے
دس روز سے جو ہڑتال شروع کی تھی اسے فلم اور ٹیلی ویژن پروڈیوسرز کی یقین دہانی کے بعد ختم کر دیا ہے اور اب روزانہ ٹی وی سیرئیل
دیکھنے والے پیر کے روز سے اپنا سیریئل دوبارہ دیکھ سکیں گے۔
اس سلسلے میں فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سِنے ایمپلائز اور پروڈیوسرز اور براڈکاسٹرز کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا ہے۔ اس سمجھوتے
کے تحت ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ اور انہیں بہتر سہولیات کے ساتھ ہر شاٹ کے بعد کچھ دیر کے لیے بریک دیے جانے جیسے مطالبات
منظور کر لیے گئے ہیں لیکن تنخواہ میں کتنا اضافہ کیا گیا ہے اس کے بارے میں ابھی یونین کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
سِنے ورکرز فیڈریشن کے جنرل سکریٹری دنیش چترویدی کے مطابق سن دو ہزار چھ میں ہی سِنے ورکرز کی تنخواہ میں اضافہ کے معاملہ پر نظر ثانی کی جا چکی ہے۔اس حساب سے انہیں ورکرز کو تنخواہ دینی چاہیے تھی لیکن انہوں نے نہیں دی۔اس حساب سے ڈیڑھ لاکھ ملازمین کے ان دو برسوں میں چار ارب روپے ان پروڈیوسرز پر باقی ہیں۔ تین اکتوبر کو ورکرز اور پروڈیوسرز کے درمیان ملازمین کی تنخواہ میں چوبیس فیصد اضافہ کے سمجوتہ پر دستخط بھی ہو چکے تھے لیکن اس کے باوجود جب پروڈیوسرز نے نئے معاہدے کے تحت تنخواہ دینے سے انکار کر دیا تو ورکرز ہڑتال پر چلے گئے۔ پروڈیوسرز نے ورکرز کے ہڑتال پر جانے کے بعد ٹی وی چینلز سے دیگر سہولیات کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اگر وہ ورکرز کی تنخواہ میں اضافہ کرتے ہیں تو انہیں خسارہ ہوگا کیونکہ اس سے ٹی وی سیریئل کے ایک ایپیسوڈ کا خرچ بڑھ جائے گا۔ ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ ملازمین نے دس نومبر سے ہڑتال شروع کی تھی۔ |
اسی بارے میں
بالی وڈ ہڑتال ختم کر دی گئی03 October, 2008 | فن فنکار
بالی وڈ میں ایک لاکھ کارکن ہڑتال پر01 October, 2008 | فن فنکار
سچن تندولکر اب بالی وڈ فلم میں29 July, 2008 | فن فنکار
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||