BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 November, 2008, 12:22 GMT 17:22 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ریو پارٹی میں منشیات کی تصدیق
 

 
 
ریو پارٹی
ریو پارٹیاں شہروں میں عام ہیں
ممبئی میں ریو پارٹی کے دوران گرفتار کیے گئے نوجوانوں کے خون کی جانچ کے بعد پتہ چلا ہے کہ ان میں منشیات کی مقدار موجود تھی۔

ڈپٹی پولیس کمشنر وشواش راؤ نانگرے پاٹل نے بی بی سی سے اس بات کی تصدیق کی کہ جن لوگوں کے خون کی جانچ کی گئی تھی ان میں سے ایک سو نو کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے یعنی انہوں نے اس پارٹی میں منشیات کا استعمال کیا تھا۔

پاٹل کے مطابق جن لوگوں کی رپورٹ آئی ہے وہ سب لڑکے ہیں اور ابھی سو لوگوں کی رپورٹ آنی باقی ہے جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

پاٹل کا کہنا ہے کہ اب پولیس ان لوگوں کو سمن بھیجی گی اس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئے گی۔ منشیات قانون کے مطابق ذاتی طور پر منشیات استعمال کرنے کی سزا چھ ماہ قید ہو سکتی ہے۔

ممبئی کے جوہو علاقے میں واقع پب ’بامبے سیونٹی ٹو ڈگری ایسٹ‘ میں پانچ اکتوبر کو انسداد منشیات سیل عملہ نے وہاں چل رہی ریو پارٹی پر چھاپہ مارا تھا۔

پولیس نے دو سو اکتیس لوگوں کو گرفتار کیا تھا جن میں 39 لڑکیاں اور منشیات فراہم کرنے والے آٹھ ایجنٹ تھے جن میں سے چھ کو ضمانت مل چکی ہے لیکن دو ابھی بھی پولیس حراست میں ہیں۔

 ریو پارٹیوں میں عام طور پر منشیات کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے اور یہ کافی مہنگے ہوتے ہیں اس لیے ان میں اکثر بڑے گھر کے نوجوان ہی شامل ہوتے ہیں
 

پاٹل کے مطابق ان میں ایک اس پب کا اسرائیلی ڈی جے سیمون ہے جس پر الزام ہے کہ وہ کاروباری طور پر منشیات فراہم کرنے والا ایجنٹ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف انسداد منشیات قانون کے تحت کیس چلے گا۔

پارٹی میں چھاپے کے دوران پولیس کو وہاں سے ایکسٹیسی کی ایک سو چار گولیاں ایل ایس ڈی کے آٹھ سو پچاس ڈراپ اور نو لاکھ روپے سے زائد کی چرس ملی تھی۔

پولیس نے جب ریو پارٹی پر چھاپہ مارا تھا اس وقت اس میں کئی فلمی ہستیوں کے بیٹے بھی موجود تھے۔ ریو پارٹیوں میں عام طور پر منشیات کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے اور یہ کافی مہنگے ہوتے ہیں اس لیے ان میں اکثر بڑے گھر کے نوجوان ہی شامل ہوتے ہیں۔

پاٹل کا کہنا تھا کہ جب پولیس نے چھاپہ مارا تھا تب پولیس پر گرفتار نوجوانوں کے والدین نے الزام عائد کیا تھا کہ بلا وجہ انہیں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ ان کے بچے منشیات نہیں لے رہے تھے۔

ریو پارٹیاں شہروں میں عام ہیں۔ اس سال مارچ میں پولیس نے ممبئی سے کچھ دور پونے شہر میں چھاپہ مار کر دو سو اکہتر لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد