BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 August, 2008, 19:28 GMT 00:28 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
بہار سیلاب ایک قومی آفت: منموہن
 
فائل فوٹو
بہار میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حالیہ چند عشروں میں یہ سب سے بڑا سیلاب ہے۔

بہار میں کوسی دریا سے آنے والے سیلاب کا پانی چار نئے اضلاع میں داخل ہو گیا ہے جس کے سبب صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے جبکہ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد سیلاب کو’قومی آفت‘ قرار دیا ہے۔

سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ریاست بہار کے پندرہ اضلاع میں بسنے والے بیس لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

سوپول، سہرسہ، ارریہ اور مدھے پورا اضلاع کو سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے ہیں۔ علاقے میں خراب موسم کے سبب فوج کو امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

جمعرات کو وزیراعظم منموہن سنگھ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ہوائی دورہ کیا اور متاثرین کے لیے دو سو تیس ملین ڈالر مالیت کے امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا۔

متاثرہ علاقوں کے فضائی دورے میں سونیا گاندھی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھیں

اس سے قبل بدھ کو بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے وزير اعظم سے ملاقات کی تھی اور ان سے مرکزي حکومت سے ایک ہزار کروڑ روپے اور ایک لاکھ ٹن اناج کی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ریاستی حکومت نے پہلے ہی امدادی کاروائی کے لیے فوج طلب کر لی ہے اور تین ہیلی کاپٹر اور تقریباً چار سو کشتیوں کو امدادی کارروائيوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو دورہ کرنے والی بی بی سی کی ٹیم سے لوگوں نے کہا کہ انتظامیہ نے شہر چھوڑنے کو تو کہہ دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیسے شہر چھوڑیں اور شہر چھوڑ کر کہاں جائیں؟

مختلف مقامات پر لوگوں نے مکانوں کی چھتوں پر پناہ لی ہوئی ہے اور وہ مدد کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ سیلاب سے جان بچا کر بعض افراد نے مدھے پورا کے ریلوے سٹیشن میں پناہ لی ہے۔ ان افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ لوگوں نے کشتیوں سے جان بچانے کے بدلے خواتین کے زیورات چھین رہے ہیں اور ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اٹھارہ اگست کو نیپال کی سرحد کے نزدیک کوسی دریا پر بندھا ہوا بند ٹوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے سیلاب آگیا۔ حکام کا کہنا ہے کوسی دریا نے اپنا راستہ بدل دیا ہے اور اب وہ اس راستے سے بہہ رہی ہے جہاں دو سو برس پہلے بہا کرتی تھی۔

اسی کی وجہ سے سیلاب کا پانی ان مقامات میں داخل ہو گیا ہے جہاں گزشتہ کئی برس میں سیلاب نہیں آیا تھا۔بہار میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حالیہ چند عشروں میں یہ سب سے بڑا سیلاب ہے۔

 
 
جان لیوا بارشیں
انڈیا میں شدید بارشوں سے عام زندگی درہم برہم
 
 
بہار میں بارش
بہار میں مسلسل بارش نے زندگی تنگ کر دی
 
 
دکن ڈائری
آندھرا میں طوفانی بارش، ماؤوِسٹ محو فکر
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد