BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 04 August, 2008, 14:29 GMT 19:29 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’دہشتگردی آڑے نہیں آئے گی‘
 

 
 
منموہن سنگھ اور حامد کرزئی
صدر حامد کرزئی دو روزہ دورہ پر دلی میں ہيں اور عین توقع بات چیت کا محور دہشت گردی رہی
ہندوستان نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ہندوستان دورے کے دوران کہا ہے کہ دہشتگردی کو ہندوستان اور افغانستان کے تعلقات کے درمیان حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی دو دنوں کے دورے پر دلی میں ہيں اور عین توقع بات چیت کا محور دہشت گردی رہی۔

ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے صدر حامد کرزئی سے بات چيت کے بعد کہا کہ صدر کرزئی ایک ایسے وقت پر ہندوستان آئے ہیں جب ہندوستان، افغانستان اور خطے کے امن و استحکام کو دہشت گردی سے زبردست خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے اس سسلسلے میں 7جولائي کو کابل میں ہندوستان کے سفارت خانے پر حملے کا ذکر کیا۔

خوشحال افغانستان
  ہندوستان ایک جمہوری خوشحال اور مستحکم افغانستان کی تعمیر میں اپنا تعاون دیتا رہے گا، ہندوستان نے 750 ملین ڈالر کی موجودہ امداد کے علاوہ افغانستان کو 450 ملین ڈالر کی اضافی امداد دے گا
 
منموہن سنگھ، وزیر اعظم ہند

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ’یہ ہندوستان اور افغانستان کی دوستی پر حملہ تھا، ہم نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ہم دہشت گردی کو اپنے تعلقات کے درمیان حائل نہيں ہونے دیں گے۔‘

صدر حامد کرزئی نے کہا کہ ہندوستان اور افغانستان دونوں کو دہشت گردی و بے رحم اور قاتلانہ سرگرمیوں کے چیلنج کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک خطے اور پوری دنیامیں امن و استحکام سبھی کے لیے فائدہ مند ہے۔’ہم اس حقیت کو سمجھتے ہيں کہ دونوں ممالک اور پوری دنیا متحد ہوکر ہی دہشت گردی کی لعنت کا مقابلہ کرسکتی ہے۔‘

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری خوشحال اور مستحکم افغانستان کی تعمیر میں اپنا تعاون دیتا رہے گا۔ مسٹر سنگھ نے کہاko ’ہندوستان نے 750 ملین ڈالر کی موجودہ امداد کے علاوہ افغانستان کو 450 ملین ڈالر کی اضافی امداد دے گا۔‘

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ صرف دونوں ملکوں کے پرانے تعلقات کی بنیاد پر ہی نہیں علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی یہ اشتراک ضروری ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سات جولائی کے کابل حملے کے لیے ہندوستان اور افغانستان دونوں نے پاکستان کی خفیہ سروس آئی ایس آئی کو ذمے دار قرار دیا تھا۔ امریکہ نے بھی اس سلسلے میں آئی ایس آئی پر انگلی اٹھائي ہے۔ گزشتہ روز کولمبو میں سارک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضلا گیلانی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس واقعات کی تفتیش کرانے کا اعلان کیا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد