BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 May, 2008, 18:18 GMT 23:18 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
کشمیر میں ’جنون‘
 

 
 
سلمان احمد
سلمان نے سرینگر میں جہاد کونسل کے سربراہ کو ’میوزیکل جہاد‘ کی دعوت دی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جھیل ڈل کے کنارے سجائے گئے سٹیج پر اتوار کی شام پاکستان کے معروف راک بینڈ ’جنون‘ کے سلمان احمد نے اپنے گٹار کے تار ہلائے تو وہاں موجود سینکڑوں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے تالیوں سے ان کا استقبال کیا۔

یہ خصوصی کنسرٹ ساؤتھ ایشیا فاؤنڈیشن نامی غیر سرکاری ادارے کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا جس میں سِول اور پولیس حکام کے علاوہ طلبا و طالبات نے بھی شرکت کی۔ کنسرٹ میں گو کہ پرجوش لڑکے اور لڑکیوں کی خاصی تعداد موجود تھی، لیکن اس میں عام شائقین نے شمولیت نہیں کی اور یونیورسٹی اور مختلف تعلیمی اداروں سے طلباء وطالبات کو بسوں میں لایا گیا تھا۔

’خوش کر دیا‘
 پاکستان میں غزل کا رواج کم ہورہا ہے، جو اچھی بات نہیں ہے۔ اب تو وہاں راک کا رواج ہے۔ لیکن جنون نے صوفی موسیقی کو مغربی موسیقی کی آمیزش کو پیش کر کے واقعی طبیعت خوش کردی
 
فاروق عبداللہ
سلمان احمد نے مسلسل تین گھنٹے تک ’جنون‘ کے مقبول گیت پیش کیے جنہیں سامعین نے خُوب سراہا۔ جنون بینڈ کے معروف گیت ’سیو نی‘ پر نوجوان سامعین بھی تھرک اُٹھے اور ریاست کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی رقص کیا۔

سلمان نے کنسرٹ کے اختتام پر بی بی سی کو بتایا کہ ’کشمیر میں کنسرٹ کرنے کا بہت دیر سے خواب تھا جو آج پورا ہوگیا۔ لوگوں نے جو پیار دیا وہ مثالی ہے۔ میں نے آج تک اتنا جذباتی احتجاج نہیں دیکھا‘۔

ریاست کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بتایا کہ ’جنون کے فنکاروں کی کشمیر آمد سے ہندپاک تعلقات مزید بہتر ہوجائینگے۔‘ مسٹر عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور غزل کے بہت شوقین ہیں۔ ’پاکستان میں غزل کا رواج کم ہورہا ہے، جو اچھی بات نہیں ہے۔ اب تو وہاں راک کا رواج ہے۔ لیکن جنون نے صوفی موسیقی کو مغربی موسیقی کی آمیزش سے پیش کر کے واقعی طبیعت خوش کر دی‘۔

’امن کا پیغام‘
 کشیدہ ماحول میں لوگوں کی طبیعت ہلکی کرنے کے لیے ایسی تقاریب ضروری ہوتی ہیں۔ جنون بینڈ کی آمد امن کا پیغام ہے
 
کلدیپ کمار کھوڑا
جموں کشمیر پولیس کے سربراہ کلدیپ کمار کھوڑا نے، جو کنسرٹ میں موجود تھے، بتایا کہ ’کشیدہ ماحول میں لوگوں کی طبیعت ہلکی کرنے کے لیے ایسی تقاریب ضروری ہوتی ہیں۔ جنون بینڈ کی آمد امن کا پیغام ہے‘۔

واضح رہے جنون بینڈ میں شرکت کے خلاف کشمیر یونیورسٹی کے طلباء نے بائیکاٹ کی کال دی تھی۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم وادی میں سرگرم کئی مسلح گروپوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے پاکستانی حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ جنون بینڈ کو کشمیر میں کنسرٹ کی اجازت نہ دیں کیونکہ ’یہ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا‘۔

اس کے جواب میں سلمان نے ہفتے کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جہاد کونسل کے سربراہ اور مقامی مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو ’میوزیکل جہاد‘ کی دعوت دی تھی۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد