|
کشمیر میں ’جنون‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جھیل ڈل کے کنارے سجائے گئے سٹیج پر اتوار کی شام پاکستان کے معروف راک بینڈ ’جنون‘ کے سلمان
احمد نے اپنے گٹار کے تار ہلائے تو وہاں موجود سینکڑوں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے تالیوں سے ان کا استقبال کیا۔
یہ خصوصی کنسرٹ ساؤتھ ایشیا فاؤنڈیشن نامی غیر سرکاری ادارے کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا جس میں سِول اور پولیس حکام کے علاوہ طلبا و طالبات نے بھی شرکت کی۔ کنسرٹ میں گو کہ پرجوش لڑکے اور لڑکیوں کی خاصی تعداد موجود تھی، لیکن اس میں عام شائقین نے شمولیت نہیں کی اور یونیورسٹی اور مختلف تعلیمی اداروں سے طلباء وطالبات کو بسوں میں لایا گیا تھا۔
سلمان نے کنسرٹ کے اختتام پر بی بی سی کو بتایا کہ ’کشمیر میں کنسرٹ کرنے کا بہت دیر سے خواب تھا جو آج پورا ہوگیا۔ لوگوں نے جو پیار دیا وہ مثالی ہے۔ میں نے آج تک اتنا جذباتی احتجاج نہیں دیکھا‘۔ ریاست کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بتایا کہ ’جنون کے فنکاروں کی کشمیر آمد سے ہندپاک تعلقات مزید بہتر ہوجائینگے۔‘ مسٹر عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور غزل کے بہت شوقین ہیں۔ ’پاکستان میں غزل کا رواج کم ہورہا ہے، جو اچھی بات نہیں ہے۔ اب تو وہاں راک کا رواج ہے۔ لیکن جنون نے صوفی موسیقی کو مغربی موسیقی کی آمیزش سے پیش کر کے واقعی طبیعت خوش کر دی‘۔
واضح رہے جنون بینڈ میں شرکت کے خلاف کشمیر یونیورسٹی کے طلباء نے بائیکاٹ کی کال دی تھی۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم وادی میں سرگرم کئی مسلح گروپوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے پاکستانی حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ جنون بینڈ کو کشمیر میں کنسرٹ کی اجازت نہ دیں کیونکہ ’یہ کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا‘۔ اس کے جواب میں سلمان نے ہفتے کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جہاد کونسل کے سربراہ اور مقامی مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو ’میوزیکل جہاد‘ کی دعوت دی تھی۔ |
اسی بارے میں
سرینگر میں عالمی صوفی فیسٹِول03 July, 2007 | فن فنکار
موسیقی، پاکستانی مُلااور جنون15 December, 2003 | فن فنکار
دہشت گردی کے خلاف پاکستانی گیت14 April, 2007 | فن فنکار
اسٹرنگز کا جنون، مہیش بھٹ کی نظر08 December, 2005 | فن فنکار
جنون کےگھوم تا نانانا کی رسمِ اجراء07 August, 2004 | فن فنکار
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||