|
بہادر شاہ ظفر کے ورثاء کا لال قلعہ پر دعوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کے ورثاء رونق زمانی بیگم اور ان کی بہن زینت محل شیخ اب دہلی کے تاریخی لال قلعہ پر ملکیت کا دعویٰ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ رونق اور زینت، کلکتہ میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی سلطانہ بیگم کی بیٹیاں ہیں۔ سلطانہ بیگم کی شادی بہادر شاہ ظفر کے پڑ پوتے شہزادے مرزا بدر بخت بہادر سے ہوئی تھی جن کا کلکتہ میں ہی انیس سو اسی میں انتقال ہو گیا تھا۔ رونق شادی کے بعد ممبئی سے دور بسائے گئے شہر نوی ممبئی کے علاقہ نیرول میں ایک چھوٹے سے گھر میں اپنےشوہر اقبال نواب اور اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں۔ رونق کو بہت افسوس ہے کہ ’وہ انگریزوں کے سامنے سر نہ جھکانے والے شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی اولاد ہوتے ہوئے آج اس آزاد ملک میں کس طرح کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں جبکہ انگریزوں سے دشمنی مول نہ لینے والے راجہ اور نواب آج انڈیا میں اپنے محلوں میں اور کروڑوں کی جائیداد کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔‘ رونق کے شوہر اقبال نواب کا کہنا ہے کہ ان کی ساس سلطانہ بیگم کو آزادی کے بعد سے آج بھی محض چار سو روپیہ ماہانہ پینشن ملتی ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔
رونق کے شوہر اقبال نواب اب لال قلعہ پر دعویٰ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ان کے مطابق سن دو ہزار چھ میں لکھنؤ کے محمود آباد کے نواب محمد عامر محمد خان کو ان کی چھ ہزار کروڑ کی جائیداد واپس ملی تھی۔وہ گزشتہ پینتالیس برسوں سے مقدمہ لڑ رہے تھے۔ان کی جیت کے بعد ہی انہوں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ عدالت سے انصاف طلب کریں گے۔ اقبال کا کہنا ہے کہ اگر حکومت لال قلعہ واپس نہیں دے سکتی تو کم سے کم ہمیں اس کا معاوضہ دیا جائے۔ان کے آباؤ اجداد کی بے پناہ دولت سے آج ہندستان مالا مال ہے لیکن آج ان کے ورثاء غربت سے بھی بدتر زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ ’آپ سوچیے کہ جتنی پینشن سلطانہ بیگم کو ملتی ہے اس سے زیادہ رقم ملک کے ایک چپڑاسی کو ملتی ہے۔ کیا یہ حکومت کا سوتیلا رویہ نہیں ہے ؟‘ اقبال رمضان کے بعد عامر خان سے مشورے کے لیے لکھنؤ جائیں گے اور پھر مقدمہ دائر کریں گے۔ انیس سو اسی میں شہزادے محمد بخت بہادر کے انتقال کے بعد لوک سبھا میں اٹھے ایک سوال کے جواب میں ریاستی وزیر مملکت یوگیندر مکوانا نے کہا تھا کہ ’اگر ان کے ورثا پینشن میں اضافہ کی درخواست کرتے ہیں تو حکومت اس پر ہمدردی کے ساتھ غور کرے گی۔‘
رونق بیگم کو حکومت کے اس رویہ پر افسوس ہے۔ ان کے مطابق انہیں رحم یا ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے۔ ’برسہا برس تک شان کے ساتھ ہندستان جیسے ملک پر بادشاہت کرنے والے مغلوں کی نسل کو ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے۔‘ تاریخ کے مطابق بہادر شاہ ظفر کو اٹھارہ سو اٹھاون میں انگریزوں نےگرفتار کر کے اس وقت کے برما بھیج دیا تھا۔انگریزوں نے اس سے پہلے بہادر شاہ ظفر کے دونوں بیٹوں کا سر قلم کر دیا تھا۔ برما میں بہادر شاہ ظفر کو نظر بند کر کے رکھا گیا تھا۔ بہادر شاہ ظفر کی آٹھ بیویاں تھیں جن میں زینت محل بھی ایک تھیں۔ان سے ایک بیٹے جواں بخت تھے۔بخت کی شادی برما میں ہی ہوئی جہاں انیس سو بیس میں انہیں ایک بیٹا ہوا جس کا نام جمشید بخت رکھا گیا۔ جمشید بخت کے دو بیٹے تھے۔ایک مرزا سکندر اور دوسرے بیدار بخت جن کی بیوی سلطانہ بیگم ہیں آج بھی کلکتہ میں ہیں۔ رونق کے مطابق ان کی والدہ کہتی ہیں کہ ’انیس سو پچیس میں مولانا ابوالکلام آزاد نے بہادر شاہ ظفر کے خاندان کو واپس دلی بلانے کی کوشش کی تھی لیکن انگریزوں نے اس کی مخالفت کی تھی اور کہا کہ انہیں کلکتہ لے جاؤ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ وہاں کسی پر یہ ظاہر نہ کریں کہ وہ بہادر شاہ ظفر کے خاندان سے ہیں۔نتیجے میں انہیں پھولوں کے بکس میں چھپا کر ہندستان لایا گیا تھا۔‘ رونق کا کہنا ہے کہ ’اب تو ہم آزاد ہیں اور انگریزوں کی غلامی بھی نہیں کر رہے ہیں تو پھر ایک ایسے شہنشاہ کے خاندان کے ساتھ اس طرح کا سوتیلا رویہ کیوں جنہوں نے اپنے وطن اور اس کے وقار پر اپنی شان و شوکت کو قربان کر دیا۔‘ |
اسی بارے میں لال قلعہ: 1857 کی جنگ آزادی کی یاد11 May, 2007 | انڈیا 1857: آزادی کی پہلی جنگ11 May, 2007 | انڈیا خونی دروازہ اور آخری مغل11 May, 2007 | انڈیا 1857 کی جنگ میں سندھ کا کردار14 September, 2007 | پاکستان 1857 اور مسلمانوں کی نقل مکانی11 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||