|
حیدرآباد کا ’فیب سٹی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کے شعبوں کے بعد اب کمپیوٹر ہارڈویئر اور الیکٹرانکس کی صنعت میں بھی بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو منوانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں جنوبی ہند کے شہر حیدرآباد میں ایک ایسے نئے مرکز کی تعمیر پر بدھ سے کام شروع ہوگیا ہے جہاں اندرون ملک پہلی مرتبہ ’سلیکان چپس‘ تیار کی جائیں گی۔ 1200 ایکڑ رقبے پر تین ارب ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ امریکہ کی ایک کمپنی ’سیم انڈیا‘ بنا رہی ہے اور اس میں حکومتِ ہند اور حکومتِ آندھرا پردیش کے علاوہ کئی کمپنیاں اس کے ساتھ اشتراک کریں گی۔ اس منصوبے کا سنگِ بنیاد آندھرا پردیش کے وزیرِاعلی راج شیکھر ریڈی نے رکھا۔ اس موقع پر ملک کے وزیرِ مواصلات و انفارمیشن ٹکنالوجی دیاندھی مارن نے کہا کہ یہ ملک کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے کیونکہ جب تک ’سلیکان چپس‘ اندرون ملک تیار نہیں ہوتے تب تک ہندوستان ہارڈویئر اور الیکٹرانکس سازوسامان کی تیاری کا بین الاقوامی مرکز نہیں بن سکتا۔ ایک بین الاقوامی ادارے ’فراسٹ اینڈ سلیوان‘ کے جائزے کے مطابق پوری دنیا میں 2015 تک ’سلیکان چپس‘ کی مارکیٹ کا حجم 350 ارب ڈالر ہو جائےگا۔ہندوستان کو آئندہ سات، آٹھ برسوں کے دوران 40 ارب ڈالر کی ’سلیکان چپس‘ کی ضرورت پڑے گی اور اگر ہندوستان میں سیمی کنڈکٹرز بنانے کی صنعت کو تیزی سے فروغ نہیں دیا گیا تو پھر ہندوستان کو قیمتی زرمبادلہ خرچ کر کے’سلیکان چپس‘ درآمد کرنا پڑیں گی۔
سلیکان چپس بنانے والے’فیب‘ کا قیام بھی آسان نہیں کیونکہ اس پر بھی اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔’سیم انڈیا‘ حیدرآباد میں جو ’فیب سٹی‘ قائم کر رہی ہے اس پر تین ارب ڈالر خرچہ آئےگا۔ ’سیم انڈیا‘ کے سربراہ ونود کمار اگروال کا کہنا ہے کہ پہلے’فیب سٹی‘ میں ایک اسمبلی اور ٹیسٹ پلانٹ بنایا جائےگا جس پر ایک سو ملین ڈالر لاگت آئے گی اور یہ بارہ مہینے میں تیار ہو جائےگا۔اس کے بعد ایک ارب ڈالر کے سرمائے سے تمام سیمی کنڈکٹرز بنانے کے یونٹ لگیں گے اور تیسرے مرحلے میں انتہائی عصری سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کے یونٹ قائم ہوں گے جن پر دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔ اس شعبے میں جس بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اسے دیکھتے ہوئے حکومتِ ہند ایک نئی پالیسی تیار کر رہی ہے جس کے تحت وہ ایسے منصوبوں کے لیئے بھاری رعایتیں دے گی اور ان میں خود بھی سرمایہ کاری کرے گی۔ ہندوستان کے لیئے اس شعبے کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ اس صنعت سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ وزیرِ مواصلات دیاندھی مارن کا کہنا ہے کہ اگر اس شعبہ کو مناسب فروغ ملتا ہے تو اس سے 70 تا 80 لاکھ لوگوں کو روزگار ملنے کی توقع ہے۔ دیاندھی مارن نے کہا کہ ’فیب سٹی‘ کو ایک خصوصی معاشی زون کی حیثیت حاصل ہوگی اور وہاں بننے والے سلیکان چپس پڑوسی اور دوسرے ممالک کو برآمد کیئے جائیں گے۔ | اسی بارے میں آئی بی ایم، بھارت میں سرمایہ کاری06 June, 2006 | انڈیا استاد بھارت میں شاگرد سات سمندر پار27 March, 2006 | انڈیا انڈیا: 10 فیصد شرحِ نمو کا تخمینہ28 February, 2006 | انڈیا ہارڈویئر سینٹر کے قیام کی منظوری10 February, 2006 | انڈیا بھارت:ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری05 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||