جلیانوالہ باغ واقعہ شرمناک ہے: ڈیوڈ کیمرون

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 فروری 2013 ,‭ 07:50 GMT 12:50 PST
ڈیوڈ کیمرون

ڈیوڈ کیمرون تین روزہ بھارتی دورے پر آخری دن پنجاب پہنچے

بھارت کے تین روزہ دورے پر آئے ہوئے برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ كیمرون ممبئی اور دہلی کے بعد بدھ کو پنجاب کے شہر امرتسر پہنچے جہاں انھوں نے سکھوں کی زیارت گاہ گولڈن ٹیمپل میں حاضری دی اور جليانوالہ باغ بھی گئے۔

جليانوالہ باغ میں ڈیوڈ كیمرون نے انیس سو انیس میں ہلاک ہونے والے پرامن مظاہرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔

ڈیوڈ كمرون نے اس موقع پر کہا کہ، ’یہ واقعہ برطانوی تاریخ کے لیے ایک شرمناک بات رہی ہے۔‘

اس سے قبل دلی میں انھوں نے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور کہا کہ بھارت کی اٹلی سے ہونے والی ہیلی کاپٹر آگستا ویسٹ لینڈ کی خرید میں بدعنوانی کے الزامات کے بعد اس کی تفتیش میں برطانیہ بھارت کو جس قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی اس میں تعاون کرے گا۔

منگل کو دلّی میں میڈیا کے سامنے دیے گئے بیان میں ڈیوڈ كیمرون نے پاکستان اور ممبئی حملوں کا بھی ذکر کیا۔

انھوں نے کہا: ’بھارت اور برطانیہ دونوں دہشت گردی کے شکار رہے ہیں۔ دونوں ملک اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کو مستحکم اور پرامن پاکستان کی ضرورت ہے۔ ممبئی حملوں کے قصورواروں کو سزا دلانا اس پورے عمل کا حصہ ہے۔‘

جب سے ڈیوڈ كیمرن بھارت کے دورے پر ہیں تب سے یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ کیا وہ سال 1919 میں برطانوی دورِ اقتدار میں ہوئے جليانوالہ باغ تشدد کے لیے معافی مانگیں گے۔

معافی سے سکون

"برطانیہ کے وزیر اعظم اگر اس بات کے لیے معافی مانگتے ہیں تو جلياں والا باغ میں ہلاک ہونے والوں کے گھر والوں کو سکون حاصل ہوگا۔ میں جلياوالا باغ شہید تنظیم کا صدر ہوں اور ایسے نہ جانے کتنے خاندان ہیں جو اس حادثے کے بعد صدمے سے تاعمر نہ نکل سکے"

بی بی سی نے اس حوالے سے چند ایسے لوگوں سے بات کی جن کے آباء و اجداد جلياوالا باغ فائرنگ میں مارے گئے تھے۔

نند لال اروڑہ جن کے دادا اس سانحے میں مارے گئے تھے کہتے ہیں ’میرے والد اس وقت چھوٹی عمر کے تھے اور میرے دادا کے ساتھ اس مظاہرے میں گئے تھے جسے کانگریس نے منعقد کیا تھا۔‘

’اس فائرنگ میں میرے دادا شہید ہو گئے تھے اور میرے والد صاحب لاشوں کے ڈھیر میں دب گئے تھے۔ شاید میرے والد صاحب اسی وجہ سے بچ سکے کیونکہ ان کے اوپر مرے ہوئے لوگوں کی لاشیں آ گری تھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لاشوں کے نیچے دبنے سے میرے والد صاحب کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگی اور وہ ساری عمر اس سے پریشان رہے۔ میری دادی مجھے بتایا کرتی تھی کہ جلياوالا باغ میں اس دن ہر جگہ خون ہی خون تھا۔‘

اس واقعے سے متاثر خاندان کے ایک رکن بھوشن بہل نے کہا: ’برطانیہ کے وزیر اعظم اگر اس بات کے لیے معافی مانگتے ہیں تو جليانوالہ باغ میں ہلاک ہونے والوں کے گھر والوں کو سکون حاصل ہوگا۔ میں جليانوالہ باغ شہید تنظیم کا صدر ہوں اور ایسے نہ جانے کتنے خاندان ہیں جو اس حادثے کے بعد صدمے سے تاعمر نہ نکل سکے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔