’مایوسی ہوئی، ہیڈلی کو سزائے موت ملنی چاہیے تھی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 25 جنوری 2013 ,‭ 09:20 GMT 14:20 PST

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی حملوں میں ملوث امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی کی امریکہ سے حوالگي کے اپنے مطالبے پر قائم ہے اور ہیڈلی پر بھارت میں مقدمہ چلنا چاہیے۔

ممبئی حملوں کی سازش کرنے کے جرم میں شکاگو کی ایک عدالت نے ڈیوڈ ہیڈلی کو پینتیس برس کی سزا سنائی ہے۔

بھارت نے اس فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سزا بہت کم ہے انہیں موت کی سزا ملنی چاہیے تھی۔

بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اپنے رد عمل میں کہا ’جو سزا انہیں دی گئي ہے اس سے حکومت کو قدرے مایوسی ہوئی ہے انہیں اس سے سخت سزا ملنی چاہیے تھی‘۔

سلمان خورشید کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کا مطالبہ یہ تھا کہ ہیڈلی پر مقدمہ بھارت میں چلے اور اگر ایسا ہوتا تو انہیں یہاں سنگين اور سخت سزا ملتی۔

انہوں نے کہا ’پینتیس برس کی سزا اور جو کچھ بھی جج نے کہا وہ بس ایک آغاز ہے۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے اپنے قوانین ہیں لیکن ان کی حوالگي کا ہمارا جو موقف تھا اس میں کوئي تبدیلی نہیں آئی ہے‘۔

سلمان خورشید نے کہا ’میرے خيال سے جج نے جو بھی کچھ کہا ہے اس سے یہ پیغام جانا چاہیے کہ ماضی میں جو بھی کچھ ہوتا رہا ہے اسے اب برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔

" پینتیس برس کی سزا اور جو کچھ بھی جج نے کہا وہ تو بس ایک آغاز ہے۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے اپنے قوانین ہیں لیکن ڈیوڈ ہیڈلی کی حوالگي کا ہمارا جو موقف تھا اس میں کوئي بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔"

بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید

بھارت کے سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ نے بھی صحافیوں سے بات چيت میں ڈیوڈ ہیڈلی کو بھارت کے حوالے کرنے کی بات کی اور کہا کہ انہیں موت کی سزا ملنی چاہیے تھی۔

مختلف سیاسی جماعتوں نے امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی کو پینتیس برس کی سزا پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سے سخت سزا ملنی چاہیے۔

حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کے ترجمان راشد علوی نے کہا ان پر بھارت میں مقدمہ چلنا چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان راجیو پرتاپ سنگھ روڈی نے بھی ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی کو سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کی سازش میں اہم کردار ادا کرنے کے جرم میں پینتیس سال قید کی سزا سنائی گئي ہے۔

ان پر پاکستان کے کالعدم شدت پسند گروپ لشکر طیبہ کو معاونت فراہم کرنے کا الزام تھا جس نے مبینہ طور پر بھارت کے شہر ممبئی میں سنہ دو ہزار آٹھ میں دہشت گرد حملے کیے تھے۔

ممبئی حملوں میں چھ امریکیوں سمیت کم از کم ایک سو ستر افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں شامل شدت پسندوں میں واحد زندہ بچ جانے والے شدت پسند اجمل قصاب کو گزشتہ سال نومبر میں بھارت میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

ڈیوڈ ہیڈلی حکام سے تعاون کرنے کی وجہ سے سزائے موت یا بھارتی حکام کے حوالے کیے جانے سے بچ گئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔