BBC navigation

لاشوں کو ’مسخ‘ کیاگیا، بھارت کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  بدھ 9 جنوری 2013 ,‭ 09:48 GMT 14:48 PST

بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو مسخ کیا گیا: بھارتی وزارت خارجہ

بھارت نے لائن آف کنٹرول پر دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر پاکستان کےسفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے۔ بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ ہلاک کیےجانے والے فوجیوں کی لاشوں کو’مسخ‘ کیاگیا ہے۔

بھارت کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے فوجیوں نے میندھر سیکٹر میں گھس کر علاقے میں گشت کرنے والے دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر کے ان کو لاشوں کو ’وحشیانہ اور غیر انسانی انداز میں مسخ‘ کیا ہے۔

یو این مبصر سے انکوائری پر تیار

"لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہیں۔ "

پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستان نے بھارت کے الزام کی تردید کرتے ہوئے اس الزام کو بے بیناد قرار دیا ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

پاکستان نے کہا کہ اب بھی دو ہزار تین کی جنگ بندی کے معاہدے کا پابند ہے جو کہ اعتماد سازی کا اہم اقدام تھا جس کی مکمل پابندی کی جانی چاہیے۔

بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو سےبات کرتے ہوئے کہا:’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے ہماری چوکی پر حملہ کیا جس میں ہمارے دو سپاہی شہید ہوئے جس کے بعد ہم نے پاکستان سے شکایت کی ہے۔‘

انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے۔‘

بھارتی وزیر سیکرٹری کےمطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نےحالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی کے کے کارکنوں نے فوجی ہلاکتوں کے خلاف مظاہرہ کیا ہے

اس سوال پر کہ بھارتی میڈیا کا یہ دعویٰ ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیےگئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے تو بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘

اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘

بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘

"پاکستان نے زمینی حقائق کی چھان بین کی ہے اور پتہ چلا ہے کہ بھارت جو الزام عائد کر رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہوا اور یہ صرف بھارتی فوج کا پروپیگنڈا ہے۔۔۔ بھارت یہ پروپیگنڈا اپنے حملے سے دنیا کی توجہ بٹانے کے لیے کر رہا ہے۔"

پاکستانی عسکری ذرائع

بدھ کو ہی پاکستان کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے بھارتی ہم منصب سے ہاٹ لائن پر گفتگو کی ہے اور پاکستان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور ایک بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے زمینی حقائق کی چھان بین کی ہے اور پتہ چلا ہے کہ بھارت جو الزام عائد کر رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہوا اور یہ صرف بھارتی فوج کا پروپیگنڈا ہے۔ فوجی اہلکار کے مطابق بھارت یہ پروپیگنڈا اپنے حملے سے دنیا کی توجہ بٹانے کے لیے کر رہا ہے۔

بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ منگل کی دوپہر پاکستانی فوجیوں نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پار کر کے دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

فوج کے ترجمان کرنل جے دہیا کے مطابق ایک فوجی کا سر قلم کیاگیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی کے سینیئر لیڈر ارون جیٹلی نے خبر رساں ایجنسی این این آئي سے بات چیت میں کہا کہ پاکستان سے دوستی بڑھانے کے بجائے اسے عالمی سطح پر شرمندہ کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا، ’بھارت بڑے جوش و خروش کے ساتھ بات چیت کا دور آگے بڑھا رہا تھا لیکن اس وارننگ کے بعد بھارت کو پاکستان کے سامنے ایک سرخ لائن كھيچني ہوگی۔ اب پاکستان پر آنکھ بند کر اعتماد کرنا ایک غلطی ہو گی۔‘

بھارتی ذرائع ابلاغ میں فوجیوں کی لاشوں کو مسخ کیے جانے کی خبر نمایاں طور پرشائع کی گئی ہے لیکن اس بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں ہیں کہ دراصل ہوا کیا تھا۔

بھارتی فوج کے مطابق بھارتی گشتی پارٹی اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان تقریباً آدھا گھنٹے تک شدید لڑائی ہوئی جس کے بعد لائن آف کنٹرول پر کئی جگہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ بھارتی فوج کے مطابق پاکستانی فوجی کہرے کا فائدہ اٹھاکر بھارتی علاقے میں داخل ہوئے۔

سلمان بشیر

بھارت نے پاکستانی سفیر سلمان بشیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا ہے

بتایا جاتا ہےکہ لائن آف کنٹرول پر اب خاموشی ہے اور دونوں فوجوں کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز رابطے میں ہیں۔

میندھر سیکٹر جموں سے تقریباً پونے دو سو کلومیٹر دور ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو ہزار تین میں لائن آف کنٹرول پر فائربندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اکثر اس کی خلاف ورزی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔

اس سے پہلے پاکستانی فوج نے دعوی کیا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے اتوار کو لائن آف کنٹرول عبور کرکے اس کی ایک سرحدی چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں ایک جوان ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

منگل کو بھارتی وزارت داخلہ نے اس الزام کو مسترد کیا تھا کہ اس کے جوانوں نے لائن آف کنٹرول عبور کی تھی۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ شروع کی تھی اور اسے اس فائربندی معاہدے کا احترام کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔