BBC navigation

دلی ریپ: ’میری بیٹی کا نام ظاہر کیا جائے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 15:26 GMT 20:26 PST
دلی ریپ مظاہرین

بھارت کے دارالحکومت نئی دلی کی ایک بس میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے والد نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی کا نام ظاہر کیا جا سکتا ہے تاکہ جنسی جرائم کے شکار لوگوں کے لیے وہ امید کا باعث بن سکیں۔

واضح رہے کہ سولہ دسمبر کو جنوبی دلی کے علاقے میں اس لڑکی کے ساتھ ایک چلتی بس میں اجتماعی جنسی زیادتی ہوئی تھی اور بعد میں اسے علاج کے لیے سنگاپور کے ہسپتال روانہ کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی تھیں۔

ان واقعات کے بعد اس لڑکی کی حمایت میں لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئے اور ملک بھر میں زبردست مظاہرے ہوئے جو ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔

لڑکی کے والد نے برطانیہ کے ایک اخبار سنڈے پیپل سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ اس کا اصلی نام لوگوں کے سامنے آئے۔‘

واضح رہے کہ بھارتی قانون سماجی وجوہات کے مدِنظر جنسی زیادتی کے متاثرین کے نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اس سے قبل بھارت کے وزیر مملکت برائے انسانی وسائل ششی تھرور نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ اس لڑکی کا نام ظاہر کیا جانا چاہیے تاکہ اس کے نام پر ریپ مخالف نیا قانون بنایا جا سکے۔

لڑکی کے والد نے کہا ’میری بیٹی نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے، اس نے اپنی مدافعت میں جان دی ہے۔ مجھے اس پر ناز ہے۔ اس کا نام ظاہر کرنے سے دوسری خواتین کو حوصلہ ملے گا۔ انہیں میری بیٹی کے نام سے تقویت ملے گی۔‘

دریں اثنا سنیچر کو جنسی زیادتی کے پانچ ملزمان کے خلاف ایک عدالت میں فرد جرم عائد کی گئی تھی جس میں وکیل استغاثہ نے ڈی این اے کی جانچ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان کے کپڑوں پر لگے خون کے نشانات اسی لڑکی کے خون کے ہیں۔

راج ٹھاکرے

راج ٹھاکرے اپنے متنازعہ بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔

ریپ کے خلاف جہاں مظاہرے جاری ہیں، وہیں بیان بازیاں بھی جاری ہیں۔ اس سے قبل ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ بیان دیا تھا کہ ریپ کے واقعات ’انڈیا‘ میں ہوتے ہیں نہ کہ ’بھارت‘ میں تاہم بعد میں اعداد و شمار کے پیشِ نظر انھوں نے اپنا بیان واپس لے لیا ہے۔

ادھر ریاست مہاراشٹر اور بطور خاص ممبئی میں متحرک سیاسی تنظیم مہاراشٹر نونرمان سینا یعنی ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے اس سلسلے میں ایک تازہ متنازعہ بیان دیا ہے۔

انھوں نے مراٹھی زبان میں تقریر کرتے ہوئے کہا ’مجھے ریپ کے متاثرین سے ہمدردی ہے اور ایسا کسی کے بھی ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن کیا کسی نے یہ پوچھا کہ ریپ کرنے والے کون تھے۔ اس کے بارے میں کوئی نہیں بول رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’سبھی ریپ ریپ چِلا رہے ہیں لیکن سبھی ریپ کرنے والے بہار کے ہیں۔۔۔ یہ بات کوئي نہیں کہہ رہا ہے۔‘

اس سے قبل انھوں نے ممبئی میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافے کی ذمہ داری بھی شمالی بھارت کے باشندوں پر ڈالی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔