BBC navigation

دلی ریپ کیس: ’نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی‘

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 01:38 GMT 06:38 PST
مظاہرے

اخبار کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد نے اخبار کو اپنا اور اپنی بیٹی کا نام ظاہر کرنے کی اجازت دی تھی۔

بھارت سے ملنے والی خبروں کے مطابق گزشتہ ہفتے بھارت کے دارالحکومت نئی دلی کی ایک بس میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے والد نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے برطانوی اخبار کو اپنی بیٹی کا نام ظاہر کرنے کی اجازت دی تھی۔

لڑکی کے والد نے روزنامہ ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی شناخت صرف اس کے نام پر قانون بنائے جانے کی صورت میں ظاہر کرنا چاہتے تھے۔

برطانوی اخبار ’ڈیلی مرر‘ نے لڑکی کے والد کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’انہیں اپنی بیٹی پر ناز ہے اور ان کا نام ظاہر کرنے سے دوسری خواتین کو حوصلہ ملے گا۔‘

اخبار کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد نے اخبار کو اپنا اور اپنی بیٹی کا نام ظاہر کرنے کی اجازت دی تھی۔

اخبار نے یہ انٹرویو اترپردیش میں لڑکی کے آبائی گاؤں بلیا میں کیا ہے اور لڑکی اور ان کے والد کا نام ظاہر کرتے ہوئے لڑکی کے والد کی تصویر بھی شائع کی ہے تاہم لڑکی کے والد نے کہا تھا کہ لڑکی کی تصویر نہ شائع کی جائے۔

واضح رہے کہ 16 دسمبر کو جنوبی دلی کے علاقے میں اس لڑکی کے ساتھ ایک چلتی بس میں اجتماعی جنسی زیادتی ہوئی تھی اور بعد میں اسے علاج کے لیے سنگاپور کے ہسپتال روانہ کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی تھیں۔

اس واقعہ کے بعد لڑکی کی حمایت میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ملک بھر میں زبردست مظاہرے ہوئے جو ابھی تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔

برطانوی اخبار نے لڑکی کے والد سے انٹرویو کے بعد ان کے حوالے سے یہ کہہ کر لڑکی کا نام ظاہر کر دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کی بیٹی کا اصلی نام جان لے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر لڑکی کی شناخت کی بات پھیل گئی۔

بھارت میں جنسی زیادتی کے شکار لوگوں کا نام ظاہر کرنا قانونی جرم ہے۔

اس سے قبل بھارت کے وزیر مملکت برائے انسانی وسائل ششی تھرور نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ اس لڑکی کا نام ظاہر کیا جانا چاہیے تاکہ اس کے نام پر ریپ مخالف نیا قانون بنایا جا سکے۔

دریں اثنا سنیچر کو جنسی زیادتی کے پانچ ملزمان کے خلاف ایک عدالت میں فرد جرم عائد کی گئی تھی جس میں وکیل استغاثہ نے ڈی این اے کی جانچ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان کے کپڑوں پر لگے خون کے نشانات اسی لڑکی کے خون کے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔