دلّی ریپ:’بھارت نئے سال کا جشن نہیں منائے گا‘

آخری وقت اشاعت:  پير 31 دسمبر 2012 ,‭ 09:43 GMT 14:43 PST

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک انصاف نہیں ملتا وہ چپ نہیں بیٹھیں گے

بھارتی دارالحکومت نئی دلّی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی اور اس کے ہلاکت کے بعد ملک میں نئے سال کی تقریبات میں بہت زیادہ کمی کی جا رہی ہے۔

بھارتی فوج نے پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں میں تمام سرکاری تقریبات منسوخ کر دی ہیں۔

برسرِ اقتدار جماعت کانگرس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ وہ بھی اس بار نئے سال کی آمد کا کوئی جشن نہیں منائیں گی۔

پارٹی کے جنرل سیکرٹری جناردھن دویدی نے ایک بیان میں کہا ’گینگ ریپ کے واقعے کے پس منظر میں سونیا گاندھی نے جماعت کے اپنے ساتھیوں، خیر خواہوں سے کہا ہے کہ نئے سال کی مبارک باد کے لیے وہ ان کے پاس نہ آئیں اور نہ ہی انہیں مبارکبادیں دی جائیں۔‘

اطلاعات کے مطابق دلی میں بیشتر ہوٹلوں نے نئے سال کی پارٹیاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیر کی صبح بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس پر غم کے اظہار کے لیے ایک تعزیتی جلسہ کیا جس میں پارٹی کی رہنما سشما سوارج نے پولیس کے کردار پر سخت نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا ’ماحول تو یہ ہے کہ ایک عام آدمی اپنے تحفظ کے لیے پولیس سٹیشن جانے سے خوف زدہ ہے جبکہ غنڈے اور موالی تھانے میں کرسیوں پر پیر پھیلا بیٹھتے ہیں۔‘

بی جے پی نے ایک بار پھر اس مسئلے پر پارلیمان کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تئیس سالہ طالبہ سے چلتی بس میں اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ سولہ دسمبر کو دلّی میں پیش آیا تھا۔

"گینگ ریپ کے واقعے کے پس منظر میں سونیا گاندھی نے جماعت کے اپنے ساتھیوں، خیر خواہوں سے کہا ہے کہ نئے سال کی مبارک باد کے لیے وہ ان کے پاس نا آئیں اور نا ہی انہیں گریٹنگز پیش کی جائیں۔"

جناردھن پجاری

جنسی زیادتی کے بعد لڑکی کو بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا اور اسے شدید چوٹیں آئی تھیں جس کے بعد سے دلّی کے صفدر جنگ ہسپتال میں ان کا علاج جاری تھا اور چھبیس دسمبر کو انہیں بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کر دیا گیا جہاں وہ سنیچر کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی تھیں۔

اتوار کو ان کی میت واپس بھارت لائی گئی اور ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد بھی غمگسار افراد نے دعائیہ تقاریب منعقد کیں جن میں حکومت سے خواتین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ دہرایاگیا۔

اس واقعے کے بعد ملک بھر بالخصوص دلّی میں دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین اس سلسلے میں حکومت سے مجرموں کو سزائے موت دینے اور نئی قانون سازی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

طالبہ کی موت کےسبب ان کا خاندان گہرے صدمے میں ہے اور اہل خانہ نے بھی مجرموں کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

دلی پولیس نے اس معاملے میں اب تک چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس کیس کی ابتدائی چارج شیٹ تیار کر لی ہے اور تمام فورنزک شواہد جمع کرنے کے بعد بہت ہی جلد فرد جرم عائد کر دی جائےگي۔

"جن لوگوں نے اس واقعہ کے خلاف آواز اٹھائی ہے، میں انہیں یہ یقین دلانا چاہتی ہوں کہ ان کی آواز سنی گئی ہے اور ان کی جدوجہد ضائع نہیں جائے گی۔"

انڈین نیشنل کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے متاثرہ لڑکی کے والد سے بات کی ہے جس کے مطابق اس واقعے سے اس وقت ان کا خاندان بہت ہی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔

اس دوران پیر کی صبح بھی کچھ لوگ جنتر منتر پر جمع ہوئے اور متاثرہ لڑکی کے ساتھ انصاف کے لیے آواز اٹھائی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت بلا تاخیر ریپ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کرے اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر سخت اقدامات کیے جائیں۔

پیر کی صبح سے حکومت نے مرکزی دلی کی طرف آنے والے کچھ راستوں کو بھی کھول دیا ہے اور ٹریفک بحال ہوگيا ہے لیکن بعض میٹرو سٹیشن ابھی بھی بند ہیں۔

انڈیا گیٹ پر مظاہروں کی اجازت نہیں ہے لیکن جنتر منتر پر لوگ جمع ہورہے ہیں اور شام کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء کی تنظیم نے حکومت پر دباؤ بنانے کے لیے ایک بڑے احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔