BBC navigation

دلّی ریپ:منموہن سنگھ کی عوام سے پرامن رہنے کی اپیل

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 05:45 GMT 10:45 PST

دلّی میں اتوار کو احتجاجی مظاہروں نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا تھا

بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے دارالحکومت نئی دلّی میں ایک لڑکی سے اجتماعی جنسی زیادتی کے خلاف پرتشدد احتجاج کے بعد عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

دریں اثناء اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ اتوار کی رات دلّی میں ایک چلتی ہوئی بس میں تئیس سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی تھی جس کے خلاف ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور تقریباً ہفتہ بھر سے بھارت میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس دوران متاثرہ لڑکی کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت پھر سے خراب ہوگئی ہے اور انہیں دوبارہ وینٹیلیٹر پر رکھا گيا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انفیکشن دور کرنے کے لیے ان کا ایک آپریشن کیا گيا تھا جس کے بعد سے ان کی حلت بگڑ گئی لیکن حالات قابو میں ہیں۔

اختتام ہفتہ اس کے خلاف جاری احتجاج کے دوران مظاہرین پر تشدد ہوگئے تھے جس میں سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے تھے جبکہ پولیس حکام نے سّتر اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

پیر کی صبح قوم سے ٹی وی پر مختصر خطاب میں وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ’میں تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امن و امان قائم رکھیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس ملک میں خواتین کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تین بیٹیوں کا باپ ہونے کی حیثیت سے میں بھی اسی طرح کا غم و غصہ محسوس کر رہا ہوں جس طرح کا عام لوگ۔ اس معاملے میں لوگوں کا غصہ جائز ہے لیکن غصے سے کوئی کام نہیں نکلے گا‘۔

اتوار کو بھی وزیراعظم کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس معاملے پر احتجاج کرنے والے افراد اور پولیس کے مابین جھڑپوں پر افسردہ ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ہم سب اس خاتون کے لیے فکرمند ہیں جو دلی میں ایک گھناؤنے جرم کا شکار ہوئی ہے‘۔

سنیچر اور اتوار کو ہزاروں افراد دلّی میں انڈیا گیٹ پہنچے تھے جو ملزمان کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اتوار کو مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہونے کے بعد حکومت نے پیر کی صبح سے مرکزی دلی کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کر دیا۔

"میں آپ سے پر امن رہنے کی اپیل کرتا ہوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم پورے میں ملک میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ہم سب اس خاتون کے لیے فکرمند ہیں جو دلی میں ایک گھناؤنے جرم کا شکار ہوئی ہے۔۔۔اور اس خوفناک واقعے پر عوام کا غصہ جائز اور حقیقی ہے"

منموہن سنگھ، بھارتی وزیراعظم

انڈيا گيٹ اور جنتر منتر کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کرنے سے ٹریفک کا نظام پوری طرح سے درہم برہم رہا اور شہر میں ہر طرف بدنظمی پھیل گئي۔

لیکن ان پابندیوں کے باوجود لوگوں کی ایک بڑي تعداد جنتر منتر پر پہنچنے میں کامیاب ہوئي اور احتجاجی مظاہرے کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی دوران دلی کے گورنر تیجندر کھنّہ نے امریکہ سے واپس آکر ایک اہم میٹنگ کی ہے جس کےبعد دو سینیئر پولیس اہل کاروں کو معطل کر دیا گيا ہے۔

اس دوران اس واقعے کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ بعض احتجاج کرنے والوں کا موقف تھا کہ حکومت کی طرف سے یہ وعدہ کہ خواتین پر حملہ کرنے والوں کو عمر قید کی سزا دلوائیں گے، ناکافی ہے اور وہ ان افراد کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتے نظر آئے۔

بعدازاں یہ احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر گیا تھا اور توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے واقعات بھی پیش آئے۔ پولیس نے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے آنسو گیس اور ’واٹر کینن‘ استعمال کی اور انہیں بسوں میں بھر کر جبراً دوسرے مقامات پر منتقل کر دیا۔

پرتشدد مظاہروں کے بعد انڈیا گیٹ اور راج پتھ کے علاقے رائے سنہا ہِلز میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر کے وہاں مظاہروں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

مظاہرین مجرموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کر رہے تھے

اس کے علاوہ پیر کو شہر کی انتظامیہ نے وسطی دلی کے نو میٹرو سٹیشن بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریل کارپوریشن کے مطابق یہ فیصلہ دلّی پولیس کی ہدایت پر کیا گیا ہے اور ’یہ سٹیشن اس وقت تک بند رہیں گے جب تک دلی پولیس سے اگلا حکم نہیں مل جاتا‘۔

ادھر ڈاکٹروں کے مطابق ریپ کا شکار لڑکی کی حالت ابھی تک نازک ہے جبکہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے والد نے بھی ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نجی نیوز چینل سی این این - آئی بی این سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’ہم چاہتے ہیں کہ انہیں سزائے موت ہی دی جائے کیونکہ یہ جب تک رہیں گے کسی نہ کسی کے ساتھ واردات کرتے رہیں گے۔ اس لیے ان کا زندہ رہنا ٹھیک نہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے کم سزا اگر ہوئی تو میرے دل کو تسلی نہیں ملے گی۔‘

انہوں نے اس موقع پر لوگوں سے پرامن رہنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ’اپنے تمام اہل وطن سے میں اپیل کروں گا کہ یہ تشدد کا دور نہیں ہے. یہ امن کا دور ہے. اس دور میں آپ ہمارے ساتھ رہیں اور ہماری بیٹی کی صحت یابی کے لیے اپنے اپنے خدا سے دعا کریں‘۔

ان کا کہنا تھا ان کی بیٹی ’بچپن سے ہی لڑتی چلی آئی ہے۔چاہے وہ پڑھائی ہو یا کوئی بھی معاملہ۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اسی طرح جدوجہد کرتی رہے گی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔