
اس سے قبل بعض پاکستانی ہندوؤں نے دلی میں آکر پناہ لی ہے
پاکستان سے بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور پہنچنے والے پاکستانی ہندوؤں کے ایک گروپ کے لیڈر کا کہنا ہے کہ وہ لوگ واپس پاکستان نہیں جائیں گے۔
ایک سو اکہتر افراد پر مشتمل یہ گروپ ’تھر ایکسپریس‘ کے ذریعے اتوار کو جودھ پور پہنچا ہے۔ اگرچہ یہ سب افراد زیارت کا ویزا لے کر بھارت آئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ واپس پاکستان نہیں جانا چاہتے۔
ہندوؤں کے فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیم سمینت لوک سنگھٹن (ایس ایل ایس) نامی تنظیم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ان افراد کومہاجر ویزا جاری کیا جائے۔
جودھ پور پہنچنے پر انہیں ایس ایل کی جانب سے کھانے پینے اور رہنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ایس ایل ایس ان پاکستانی ہندوؤں کے لیے برسوں سے یہ کوشش کررہی ہے کہ انہیں بھارت میں رہنے کی اجازدت دے دی جائے۔
ایس ایل ایس کے ایک ترجمان کے مطابق یہ سبھی افراد پاکستان کے صوبہ سندھ سے یہاں آئے ہیں اور ’ان سب کا تعلق صوبہ سندھ کے شہروں سانگھڑ اور حیدرآباد سے ہے۔‘
گروپ میں بیتس خواتین اور بچے شامل ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق بھیل قبائل سے ہے۔
پاکستان سے آنے والے ایک شخص نے بتایا ’آپ ہمارا درد نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ حال ہی میرے والد کا انتقال ہوگیا تو مجھے ان کے آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے جگہ تک نہیں ملی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم پاکستان واپس نہیں جائیں گے۔آپ ہمیں بھلے ہی یہاں مار دیں لیکن ہم واپس نہیں جائیں گے۔پاکستان میں اسلامی شدت پسندی میں اضافے کے بعد ہمیں ہر دن پریشانی کا سامنا ہے۔‘
ایس ایل ایس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ان ہندوؤں کے چہرے پر ڈر صاف دکھائی دیتا ہے۔ یہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں کیونکہ مسئلہ دو ممالک کا ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل کچھ پاکستانی ہندوؤں نے دلی میں آ کر پناہ لی ہے اور ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ واپس پاکستان نہیں جانا چاہتے کیونکہ وہ وہاں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت پاکستان بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ ملک میں اقلیتیں خاص طور پر ہندو پوری طرح محفوظ ہیں۔




















