بھارت:خلیل چشتی کو پاکستان جانے کی اجازت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 مئ 2012 ,‭ 13:52 GMT 18:52 PST

ڈاکٹر چشتی نے کہا کہ وہ بے حد خوش ہیں اور آخرکار انہیں انصاف ملا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے معمر پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی کو عارضی طور پر پاکستان جانے کی اجازت دے دی ہے۔

لیکن انہیں قتل کے کیس میں سزا کے خلاف اپنی اپیل کی سماعت سے قبل بھارت واپس لوٹنا ہوگا۔

قتل کے کیس میں ڈاکٹر چشتی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

جمعرات کو عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر چشتی کو پانچ لاکھ روپے کی ضمانت دینی ہوگی اور یکم نومبر سے پہلے انہیں بھارت واپس لوٹنا ہوگا۔

ڈاکٹر چشتی کو قتل کے ایک بیس سال پرانے کیس میں سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد ڈاکٹر چشتی نے کہا کہ وہ بے حد خوش ہیں اور آخرکار انہیں انصاف ملا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ حکومت پاکستان سے ان بھارتی قیدیوں کی رہائی کی اپیل کریں گے جو اپنی سزائیں پوری کرنے کے بعد بھی پاکستانی جیلوں میں قید ہیں۔

سپریم کورٹ ان کی اپیل کی سماعت بیس نومبر سے کرے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق بھارت کی تاریخ میں شاید ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

ڈاکٹر چشتی کو ہدایت دی گئی ہے کہ کراچی پہنچنے پر وہ بھارتی قونصل خانے میں اپنا پاسپورٹ جمع کروائیں۔

ڈاکٹر چشتی کے وکیل نیتن سنگرا نے عدالت سے کہا کہ ڈاکٹر چشتی ایک معروف سائنسدان ہیں، ان کی طبعیت خراب رہتی ہے اور ان کی عمر اسی سال سے زیادہ ہے لہذٰا انہیں اس وقت تک کے لیے پاکستان جانے دیا جائے جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر چشتی بیس سال پہلے اپنی والدہ سےملنے بھارت کے شہر اجمیر آئے تھے اور تب سے ہی قتل کے ایک معاملے میں ملوث ہونے کی وجہ سے واپس نہیں جا سکے ہیں۔

سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے کے بعد ڈاکٹر چشتی کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان جانے کی اجازت مانگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر چشتی بیس سال سےبھارت میں ہیں، پہلے بھی جب وہ ضمانت پر تھے تو پاکستان نہیں جا سکتے تھے، اب بنیادی طور ہم نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ جب تک معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، انہیں پاکستان جانے کی اجازت دے دی جائے کیونکہ وہ لمبے عرصے سے اپنے اہل خانہ سے جدا ہیں۔‘

قتل کے کیس میں ڈاکٹر چشتی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کافی عرصے سے ڈاکٹر چشتی کو پاکستان واپس بھیجنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

گزشتہ برس سپریم کورٹ کے جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بھی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو خط لکھ کر یہ اپیل کی تھی کہ انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا جائے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی اپریل میں وزیر اعظم سے ڈاکٹر چشتی کی رہائی کی وکالت کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔