BBC navigation

پاکستانی قیدی خلیل چشتی جیل سے رہا ہوگئے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 11 اپريل 2012 ,‭ 13:43 GMT 18:43 PST
خلیل چشتی

پروفیسر خلیل کو کراچي جانے سے متعلق نئی عرضی دینی ہوگي

بھارتی ریاست راجستھان کی اجمیر سینٹرل جیل میں قید کیےگئے بزرگ پاکستانی پروفیسر خلیل چشتی بدھ کے روز جیل سے باہر آگئے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے پیر کے روز ان کی ضمانت منظور کی تھی لیکن رہائی کے لیے قانونی کارروائی کے بعد انہیں بدھ کو رہا کیا گيا۔

اکیاسی برس کے مائيکرو بائیولوجسٹ خلیل چشتی قتل کے جرم میں اجمیر کی جیل میں قید تھے۔

جیل سے باہر آنے کے بعد پروفیسر خلیل چشتی نے بی بی سی بات چيت میں کہا کہ وہ کراچی جانے کے خواہش مند ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایک روز وہ اپنے ملک واپس جائیں گے۔

انکا کہنا تھا ’میں بہت خوش ہوں کہ بیس برسوں کی مشقتوں کے بعد مجھے پھر سے کھلی ہوا میں سانس لینے کا موقع ملا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے معاملے کو فائنل نہ سمجھا جائے، جب تک مجھے پاکستان نہ بھیجا جائے اور میں اپنے بیوی بچوں کی دیکھ بھال نہیں کر لیتا اس وقت تک فعال زندگی شروع نہیں کر سکتا۔‘

ڈاکٹر خلیل کو قتل کے ایک مقدمے میں اجمیر کی ایک عدالت نے انیس برس تک سماعت کے بعد جنوری دو ہزار گيارہ میں عمر قید کی سزا سنائی تھی تبھی سے وہ قید تھے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صدر زرداری کے بھارتی دورہ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں انسانی بنیادوں پر ضمانت دی تھی اور کہا کہ خیر سگالی کے اقدامات جاری رہنے چاہیں۔

مسٹر چشتی کی خواہش ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایّام اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزار سکیں جس کے لیے وہ کراچی واپس جانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے انہیں عدالت میں الگ سے عرضی دینی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے ضمانت دیتے وقت کہا تھا کہ انہیں ضمانت پر رہا کیا جا رہا ہے اور ملک سے باہر جانے کے متعلق انہیں الگ سے عرضی دینی ہوگي اور عدالت اس پر سماعت کے لیے تیار ہے۔

"میں بہت خوش ہوں کہ بیس برسوں کی مشقتوں کے بعد مجھے پھر سے کھلی ہوا میں سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ میرے معاملے کو فائنل نا سمجھا جائے، جب تک مجھے پاکستان نا بھیجا جائے اور میں اپنے بیوی بچوں کی دیکھ بھال نہیں کر لیتا اس وقت تک میں فعال زندگی شروع نہیں کر سکتا۔"

ڈاکٹر خلیل پاکستانی شہری ہیں اور سنہ انیس سو بانوے میں وہ اپنے بھائی اور والدہ سے ملنے کے لیے اجمیر آئے ہوئے تھے۔

اجمیر میں ان کے بھائی کی رہائش گاہ پر خاندان کے کچھ لوگوں میں لڑائی ہوگئی۔ لڑائی کے دوران کسی نے گولی چلا دی جس سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ چونکہ اس وقت موقع پر ڈاکٹر خلیل بھی موجود تھے اس لیے ایف آئی آر میں ان کا نام بھی درج کر لیاگیا۔

مقدمے کے بعد انہیں ضمانت پر رہائی مل گئی تھی لیکن پاکستانی شہری ہونے کے سبب ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیاگیا تھا اور انہیں انیس برس تک عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے ہر پندرہ دن بعد تھانے میں حاضری دینی پڑتی تھی۔

عمر رسیدہ پروفیسر انتہائی بیمار حالت میں ہیں۔ جب انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تو عدالت میں انہیں سٹیچر پر لایا گيا تھا اور پھر انہیں دو آدمیوں کی مدد سے جیل لے جایا گیا تھا۔

ڈاکٹر خلیل کو دل کا دورہ بھی پڑ چکا ہے اور اس عمر میں وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جیل میں قید کے دوران ان کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔

پروفیسر خلیل نے کراچی یونیورسٹی سے مائیکروبائیولوجی میں ایم ایس سی کیا تھا اور اس کے بعد ایڈنبرا یونیورسٹی سے وائرولوجی میں پی ایچ ڈی کی تھی۔ انہوں نے کراچی کے علاوہ ایران، سعودی عرب اور نائجیریا میں بھی کئی برس درس و تدریس کا کام کیا اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔