
سونیا گاندھی کو ملک کی سب سے طاقتور سیاستدان مانا جاتا ہے
بھارت میں حکمراں پارٹی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ’سکیورٹی خدشات‘ کی وجہ سے اپنے انکم ٹیکس کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق گوپالكرشن نام کے ایک شخص نے آر ٹی آئی یعنی معلومات کی رسائی کے حقوق کے قانون کے تحت یہ جاننا چاہا تھا کہ سونیا گاندھی نے سنہ 2000 سے شروع ہونے والے دس برس تک کتنا ٹیکس دیا ہے۔
اس سوال کے جواب میں سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ معلومات دینے سے ان کی سلامتی کےعلاوہ ان کی مالیت کو ’خطرہ‘ ہوسکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اس بارے میں جانکاری دینے سے انکار کردیا ہے۔
انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو گزشتہ دسمبر بھیجی گئی اپنی درخواست میں مسٹر گوپالکرشن نے سونیا گاندھی کے سنہ دوہزار سے گزشتہ دس برس کے انکم ٹیکس کی تفصیلات طلب کی تھیں۔
"شفافیت کے نام پر کسی تیسرے شخص کو اس طرح کی نجی معلومات فراہم کرنا انفرادیت پر حملہ ہے۔"
سونیا گاندھی
مسٹر گوپالکرشن کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان معلومات کو حاصل کرنے کے لیے اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔
مسٹر گوپالکرشن نے آر ٹی آئی قانون کے تحت انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو اپنی درخواست بھیجی تھی۔ انکم ٹیکس شعبہ نے محترمہ سونیا گاندھی کو نوٹس بھیجا تھا کہ وہ اپنے انکم ٹیکس سے متعلق درخواس کا جواب دیں۔ لیکن سونیا گاندھی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔
سونیا گاندھی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ’شفافیت کے نام پر کسی تیسرے شخص کو اس طرح کی نجی معلومات فراہم کرنا انفرادیت پر حملہ ہے‘۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح کی معلومات دینا کسی طرح سے بھی عوام کے فائدے میں نہیں ہے۔
اس پر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے بھی یہی کہا کہ یہ معلومات کسی طرح سے مفاد عامہ نہیں ہے۔ حالانکہ گوپالکرشن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔



















