bbc.co.uk navigation

کشمیر: 2700 لڑکوں کے خلاف مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 فروری 2012 ,‭ 09:09 GMT 14:09 PST
کشمیر میں احتجاج کی فائل فوٹو

کشمیر میں گزشتہ برس جو مظاہرے ہوئے تھے اس میں بڑے پیمانے پر نوجوانوں نے حصہ لیا تھا

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی مقامی حکومت نے جمعہ کو اعتراف کیا ہے کہ سن دو ہزار دس میں نوجوان مظاہرین کے لیے عام معافی کا فیصلہ التوا کا شکار ہوگیا ہے۔

جموں کشمیر کے سرمائی دارالحکومت میں جاری مقامی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران حزبِ اختلاف کے ایک سوال کے تحریری جواب میں حکومت نے لکھا ہے کہ کُل ملا کر دو ہزار سات سو چار نوجوان مظاہرین کے خلاف مقدمے درج کیے گئے ہیں۔

سرکاری جواب کے مطابق ہند مخالف مظاہروں، پتھراؤ اور نعرے بازی کے دو سو اٹھائیس معاملوں میں پولیس مطلوب ڈیڑھ ہزار نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس جواب پر اپوزیشن پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفطی نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر کشمیری نوجوانوں کو ہند مخالف سرگرمیوں کے لیے اکسا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’حکومت نے پہلے عام معافی کا اعلان کیا لیکن کسی کا کیس واپس نہیں لیا۔ سب کو معلوم ہے دو ہزار دس میں ایک سو بیس لوگوں کو کس نے قتل کروایا۔ یہ حکومت تو چاہتی ہے کہ کشمیری نوجوان مایوس ہوکر پھر ایک بار تشدد اور ہند مخالف تحریک کا راستہ اپنائیں۔‘

قابلِ ذکر ہے کہ پچھلے سال اگست میں عید الفطر کے موقعے پر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کشمیری نوجوانوں کے لیے ’عیدگفٹ‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مارچ دو ہزار دس سے اگست دو ہزار گیارہ تک ہند مخالف نعرے بازی یا مظاہروں میں ملوث ایک ہزار دو سو نوجوانوں کے لیے عام معافی ہوگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ سہولت ان نوجوانوں کو میسر نہیں ہوگی جو آتشزنی، توڑپھوڑ یا دیگر تشدد میں ملوث ہوں۔

"حکومت نے پہلے عام معافی کا اعلان کیا ، لیکن کسی کا کیس واپس نہیں لیا۔ سب کو معلوم ہے دو ہزار دس میں ایک سو بیس لوگوں کو کس نے قتل کروایا۔ یہ حکومت تو چاہتی ہے کہ کشمیری نوجوان مایوس ہوکر پھر ایک بار تشدد اور ہندمخالف تحریک کا راستہ اپنائے۔"

محبوبہ مفطی

جموں کشمیر کی ستاسی رُکنی اسمبلی میں قانون کے وزیرِاعلی محمد ساگر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عمرعبداللہ نے یہ اعلان نوجوانوں کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو تحفظ دینے کے لیے کیا تھا لیکن یہ کسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا۔‘

قابل ذکر ہے کہ کسی بھی تھانے میں کسی نوجوان کے خلاف محض نعرے بازی کا بھی معاملہ درج ہو تو اسے تعلیمی اداروں میں داخلہ، پاسپورٹ یا سرکاری نوکری سے محروم ہونا پڑتا ہے۔

مسٹر ساگر کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر تک عام معافی کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔

نوجوانوں کے خلاف مقدمات سے متعلق حکومت کے تحریری جواب کے مطابق دو ہزار دس کے دوران پلوامہ اور گاندربل سے سب سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا جہاں بالترتیب ایک ہزار نو اور دو سو سینتالیس نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا۔ واضح رہے کہ گاندربل، وزیراعلیٰ کا حلقہ انتخاب ہے جبکہ اپوزیشن رہنماء محبوبہ مفتی پلوامہ کے وچی علاقہ کی نمائندگی کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ دو ہزار دس میں فرضی جھڑپوں میں بے قصور نواجونوں کی ہلاکتوں کے خلاف کشمیر میں احتجاج اور سنگ بازی کی لہر چلی تھی۔ اس تحریک کے خلاف پولیس اور نیم فوجی عملہ کی انسدادی کارروائیوں میں ایک بیس نوجوان مارے گئے جن میں اکثر آٹھ سے سولہ سال کی عمر کے تھے۔

بعد میں پتھراؤ پر قابو پانے کے لیے سنگ بازوں کے خلاف پولیس آپریشن شروع کیا گیا جس میں سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ متعدد نوجوان نےگرفتاری سے بچنے کے لیے کشمیر چھوڑ کر بھارت کی دوسری ریاستوں میں پناہ لے لی۔

اسی بارے میں

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔