bbc.co.uk navigation

قصاب مقدمہ، خفیہ ریکارڈنگ پر سماعت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 22 فروری 2012 ,‭ 10:18 GMT 15:18 PST
اجمل امیر قصاب

اجمل قصاب ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں

بھارتی سپریم کورٹ میں محمد اجمل امیر قصاب کے مقدمہ میں حملے کے دوران حملہ آوروں اور پاکستان میں ان کے ہینڈلرز کے درمیان ہوئي بات چيت کی خفیہ ریکارڈنگ جمعرات کو سنی جائےگی۔

حملے کے دوران فون پر ہوئی بات چيت کی خفیہ ریکارڈنگ کو ججوں اور فریقین کے وکلاء کے سامنے سناجائے گا۔

وکیلِ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ممبئی پر حملہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے تحت کیا گيا تھا اور حملے کے دوران فون پر ہوئی بات چيت اس کا واضح ثبوت ہے۔

ممبئی پر حملہ کرنے والوں میں سے واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آوراجمل امیر قصاب نے اپنی موت کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔

انہیں حملے کے جرم میں ممبئی کی سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی۔

اسی پر سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ جمعرات کو دوپہر بعد دو بجے اس ریکارڈنگ کو سب کے سامنے سنا جائے گا۔

مہاراشٹر حکومت کے وکیل گوپال سبرامنیم نے عدالت سے کہا تھا کہ حملے کے دوان ہینڈلرز سے جو بات چیت ہوئی ہے وہ اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ ممبئی پر حملہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گيا تھا۔

انہوں نے عدالت سے کہا کہ حملہ آوروں نے ممبئی آنے کے لیے جس ’کوبیر‘ نامی کشتی کا استعمال کیا تھا اس سے دستیاب ہوئي ڈائری سے صاف ظاہر ہے کہ تمام حملہ آور ایک ساتھ آئے تھے اور منصوبے کے تحت پہنچنے پر اپنے طے شدہ ہدف کے مطابق پانچ مختلف گروپوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔

گوپال سبرام منیم نے کہا کہ اس ریکارڈنگ کے سنے جانے میں کوئی مشکل نہیں ہے اور اس کے لیے عدالت میں تمام مناسب انتظامات کیے جائیں گے۔

قصاب کے وکیل کا کہنا ہے کہ استغاثہ نے بھرپور انداز میں ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں کیے اور یہ کہ ذیلی عدالتوں میں سماعت کے دوران انہیں ایک اچھے وکیل کے ذریعہ اپنا دفاع کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔

اپنی پٹیشن میں قصاب نے کہا تھا ’انہیں اس جرم پر مائل کرنے کے لیے ایک روبوٹ کی طرح برین واش کیا گیا تھا اور ان کی کم عمری کو دیکھتے ہوئے انہیں سزائے موت نہیں دی جانی چاہیے‘۔

نومبر سنہ دو ہزار آٹھ میں دس شدت پسندوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا اور تقریباً تین دن جاری رہنے والی اس کارروائی میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حملہ آوروں میں سے اجمل امیر قصاب ہی زندہ پکڑے گئے جبکہ باقی سب مقابلے میں مارے گئے تھے۔ اجمل امیر قصاب اُس وقت سے ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔