bbc.co.uk navigation

فحش ویڈیو معاملہ، تین وزراء مستعفی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 8 فروری 2012 ,‭ 05:55 GMT 10:55 PST

تینوں وزراء کو بی جے پی کے دفتر بلا کر استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا تھا

بھارتی ریاست کرناٹک میں اسمبلی کی کارروائی کے دوران موبائل فون پر مبینہ طور پر فحش ویڈیو دیکھنے والے دو وزراء نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ان دونوں کے علاوہ یہ فحش ویڈیو ان وزراء کو بھیجنے والے وزیر بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

شمالی کرناٹک سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کی حکومت کے وزراء لکشمن سوادی اور وزیر سی سی پاٹل منگل کو اسمبلی اجلاس کے دوران موبائل فون پر فحش ویڈیو دیکھتے پائے گئے تھے۔

ایک مقامی ٹی وی چینل نے انہیں یہ ویڈیو دیکھتے ہوئے دکھایا تھا۔ ٹی وی فوٹیج میں سوادي اپنے فون پر ایک ویڈیو دیکھ رہے ہیں اور اس کے بعد تھوڑی دیر کے لیے پاٹل بھی ان کے پاس آتے ہیں۔

لکشمن سوادي اور سی سی پاٹل کے علاوہ معلومات اور ٹیکنالوجی امور کے وزیر کرشنا پالیمر نے بھی استعفی دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر یہ مواد لکشمن سوادی کو دیا تھا۔

بدھ کو تینوں وزراء کو بی جے پی کے دفتر بلایا گیا اور انہیں استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا۔

بعدازاں بی جے پی کے دفتر کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لکشمن سوادی نے کہا،’ہم نہیں چاہتے کہ پارٹی اور حکومت کو ہماری وجہ سے شرمندہ ہونا پڑے اس لیے ہم سب نے وزارتوں سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

"ہم نہیں چاہتے کہ پارٹی اور حکومت کو ہماری وجہ سے شرمندہ ہونا پڑے اس لیے ہم سب نے وزارتوں سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔"

لکشمن سوادی

اس سے قبل منگل کو سوادی نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ ویڈیو دیکھی ہے لیکن وہ اسے جرم نہیں سمجھتے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق لکشمن سوادی نے کہا تھا، ’یہ فلم ایک دوسرے وزیر کرشنا پالیمر کے موبائل فون پر تھی۔ ویڈیو کلپ میں عورتیں ناچ رہی تھیں اور بعد میں چار آدمیوں نے ان کا ریپ کیا۔ پالیمر نے مجھے بتایا کہ بیرون ملک میں ایسی ریو پارٹیاں ہوتی ہیں۔ چونکہ ایوان میں مالپے میں ہوئی ریو پارٹی پر بحث چل رہی تھی لہٰذا میں نے یہ فلم دیکھی‘۔

کرشنا پالیمر کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ اس طرح کے کلپ کس طرح بھیجے جاتے ہیں اور ان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔

لکشمن سوادي اور سی سی پاٹل نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی کے سپیکر اس معاملے کی تفتیش کا حکم دیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ بے قصور ثابت ہوں گے۔

کرناٹک میں اسمبلی سیکریٹریٹ دُوردرشن کے علاوہ مقامی نجی ٹی وی چینلوں کو بھی ایوان کی کارروائی کا نشریات کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔