
یہ فلیٹ اکیسویں منزل پر واقع ہے اور اس میں چار کمرے ہیں
بھارت کے کاروباری مرکز ممبئی میں ایک فلیٹ ایک لاکھ گیارہ ہزار روپے فی مربع فٹ کے حساب سے انتیس کروڑ روپے میں فروخت ہوا ہے جو رقبے کے لحاظ سے ملک میں کسی بھی اپارٹمنٹ کے لیے ادا کی جانے والی سب سے زیادہ رقم ہے۔
خبر رساں اداروں اور اخباری اطلاعات کے مطابق یہ فلیٹ کف پریڈ کی جولی میکر ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہے جہاں انتہائی دولت مند لوگ رہتے ہیں۔
فلیٹ کا رقبہ تقریباً چھبیس سو مربع فٹ بتایا گیا ہے۔ یہ فلیٹ اکیسویں منزل پر واقع ہے اور اس میں چار کمرے ہیں۔
اس سے پہلے ممبئی کے ہی وورلی علاقے میں سمدرا محل سوسائٹی کا ایک فلیٹ سینتیس کروڑ روپے میں بکا تھا لیکن اس کا رقبہ چھتیس سو فٹ تھا، یعنی اس میں زمین کی قیمت تقریباً ایک لاکھ دو ہزار روپے فی مربع فٹ ادا کی گئی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ فلیٹ کمپیوٹر بنانے والی ایک کمپنی پٹنی کمپیوٹرز کے مالکان میں سے ایک، اشوک پٹنی، نے خریدا ہے۔ یہ دو بھائی پہلے سے اس سوسائٹی میں رہتے ہیں اور ان کے علاوہ اس سوسائٹی میں زی ٹی کے مالک سبھاش چندرا، گوئنکا خاندان اور گوا کے سالگاؤکر خاندان جیسے دولت مند افراد رہتے ہیں۔
سوسائٹی میں رہنے کا ’فائدہ‘
اس سوسائٹی میں گھر لینے کے بعد اگر آپ سادہ زندگی گزارنا چاہیں تو پھر کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ سوسائٹی یہاں رہنے والوں کو ہر سال ایک معقول رقم ادا کرتی ہے جو فلیٹ کے رقبے کے حساب سے چھ سے بارہ لاکھ روپے کے درمیان ہوسکتی ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق اس سوسائٹی میں گھر لینے کے بعد اگر آپ سادہ زندگی گزارنا چاہیں تو پھر کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ سوسائٹی یہاں رہنے والوں کو ہر سال ایک معقول رقم ادا کرتی ہے جو فلیٹ کے رقبے کے حساب سے چھ سے بارہ لاکھ روپے کے درمیان ہوسکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ سوسائٹی ملک کے سب سے مہنگے کاروباری علاقے ناریمان پوائنٹ پر ایک عمارت میں چھ منزلوں کی مالک ہے اور یہ جگہ بڑی بڑی کمپنیوں کو کرائے پر دی گئی ہے جس سے سوسائٹی کو چھ کروڑ روپے سالانہ آمدنی ہوتی ہے۔
جب لوگ جولی میکر میں فلیٹ خریدتے ہیں تو وہ اس آمدنی میں بھی شریک ہو جاتے ہیں۔یہ سوسائٹی اپنے ممبران سے دیکھ بھال کے لیے ہر مہینے ایک پیسہ فی مربع فٹ کے حساب سے رقم وصول کرتی ہے۔



















