کشمیر: عیسائی اداروں پر مسلمانوں کو منحرف کرنے کا الزام

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 28 جنوری 2012 ,‭ 14:47 GMT 19:47 PST
سید علی شاہ گیلانی

علی شاہ گیلانی کا کہنا ہے کہ انہیں شرعی عدالت کے ان الزامات سے دھچکا پہنچا ہے

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں مقامی علماء کی ’شرعی عدالت‘ کو انسانی حقوق تنظیموں اور علیٰحدگی پسندوں کی تنقید کا سامنا ہے۔ جموں کشمیر حکومت کی تسلیم شدہ شرعی عدالت کے مفتی اعظم، مفتی بشیرالدین نے پاسٹر کھنہ، جِم بروسٹ، غیور مسیح اور چندرکانتا نامی عیسائی پادریوں کو غیرقانونی طریقوں سے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے الزام میں کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

مفتی بشیر کا کہنا ہے کہ عیسائی مبلغ کشمیری نوجوانوں کو عیسائیت کی طرف راغب کرتے ہیں۔ مفتی اعظم نے پاسٹر کھنہ کو اپنی عدالت میں طلب کرکے یہ فیصلہ پچھلے ہفتے سنایا تھا۔

یہ تنازعہ پچھلے کئی ہفتوں سے جاری ہے اور مقامی عیسایئیوں کی تبلیغی سرگرمیوں پر کڑی نظررکھ رہی ہے۔

لیکن علیٰحدگی پسند رہنما سّید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ انہیں علماء کے اس ردعمل سے دکھ پہنچا ہے۔

مسٹر گیلانی نے بی بی سی کو بتایا: ’اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس کا ردعمل سماجی اصلاح ہونا چاہیئے تھا۔ اگر عیسائی غریبوں کی مدد کرکے انہیں اپنے مذہب کی جانب راغب کرتے ہیں تو علماء کو بیت المال مضبوط کرنا ہے، اور وہ سکولوں کے ذریعہ تبلیغ کرتے ہیں تو ایسے ہی معیاری ادارے قائم کرنے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اپنی کمزوریوں کا نزلہ دوسروں پر گرانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

مسٹر گیلانی نے کہا : ’یہ لوگ دین جانتے ہیں اور دین کی تبلیغ کرتے ہیں، ان کے پاس مسائل سمجھنے کی صلاحیت ہونی چاہیئے۔‘

قابل ذکر ہے شرعی عدالت نے عیسائیئوں کے سکولوں میں علامہ اقبال کی نظم 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' پڑھوانے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔

"اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس کا ردعمل سماجی اصلاح ہونا چاہیئے تھا۔ اگر عیسائی غریبوں کی مدد کرکے انہیں اپنے مذہب کی جانب راغب کرتے ہیں تو علماء کو بیت المال مضبوط کرنا ہے، اور وہ سکولوں کے ذریعہ تبلیغ کرتے ہیں تو ایسے ہی معیاری ادارے قائم کرنے ہیں۔"

سید علی شاہ گیلانی

مفتی بشیر الدین کا کہنا ہے کہ ان کی عدالت کو عوامی حمایت حاصل ہے اور انہوں نے مسلمانوں کے مذہبی مسلہ پر آواز اُٹھائی ہے جو نہایت اہم ہے۔

مفتی اعظم کہتے ہیں: ’عیسائی مبلغ سرمایہ اور جنسی تسکین کا سامان مہیا کرکے مسلم نوجوانوں کو اسلام سے منحرف کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یہ کام خدمت خلق اللہ نام کی ایک فرضی این جی او کے تحت ہورہا تھا۔ ہم نے ان کے منصوبوں کو ایکسپوز کرکے لوگوں کے جذبات کی نمائندگی کی ہے۔‘

اس شرعی عدالت کی مقامی قانون یا آئین میں کوئی حیثیت نہیں ہے، لیکن یہاں کی حکومت مفتی اعظم کے عہدہ اور ان کے ادارے کو تسلیم کرتی ہے۔

حکومت کے محکمہ قانون کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ عدالت ایک مشاورتی گروپ ہے جو مذہبی معاملات میں رائے قائم کرتا ہے۔ لیکن مفتی اعظم کہتے ہیں کہ ان کا ادارہ پچھلے ساڑھے پانچ سو سال سے کشمیری مسلمانوں کے مذہبی امور میں فیصلہ سازی کرتا رہا ہے۔

شرعی عدالت اور مقامی علما نے عیسائیت کے مبینہ پھیلاؤ پر جو تشویش ظاہر کی ہے اس پر بعض غیر معروف مذہبی تنظیموں نے بھی بیانات جاری کئے۔ لیکن عیسائیوں یا عیسائی اداروں کیخلاف کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انسانی حقوق کے مقامی اداروں نے بھی اس معاملہ میں خاموشی اختیار کرلی ہے۔

انسانی حقوق کے معروف ادارہ جموں کشمیر کولیشن آف سِول سوسائیٹیز کے سربراہ پرویز امروز کہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اس وقت انسانی حقوق کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

مسٹر امروز نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی قانون میں مذہب کی تبلیغ کے لئے جبر یا فریب کاری کی اجازت نہیں ہے اور پولیس کو چاہیئے کہ ان الزامات کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دے۔

ان کا کہنا ہے کہ: ’یہ لوگ خدائی فوجدار بن کر اس مسئلہ کو اُچھال رہے ہیں اور اپنی تشہیر چاہتے ہیں، لیکن بڑے پیمانہ پر اس مسئلہ کی تشہیر سے عالمی سطح پر کشمیریوں کے سفارتی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘

جموں میں مقیم بِشپ پیٹر سیلیسٹین کا کہنا ہے ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ نفوس پر مشمتل جموں کشمیر کی آبادی میں عیسائیوں کا تناسب صفر اعشاریہ صفرصفر ایک چار ہے اور اس لحاظ سے وہ کشمیر کی سب سے چھوٹی اقلیت ہیں۔

صدیوں سے یہاں کے عسیائی اور اکثریتی مسلمان رواداری سے رہتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں عیسائیوں کے تعلیمی اداروں کی مثبت پہچان ہے جس کا اعتراف خود شرعی عدالت نے بھی کیا ہے۔ لیکن مفتی اعظم نے ان کے سکولوں میں علامہ اقبال کی دعا ’لب پہ آتی ہے دعا بن کر تمنا‘ میری پڑھوانے کا حکم جاری کیا ہے۔ سرینگر اور دوسرے اضلاع میں عیسائی اداروں کے درجنوں تعلیمی ادارے سرگرم ہیں۔ ان سکولوں سے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق سمیت کئی نامور شخصیات فارغ ہوچکی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔