bbc.co.uk navigation

گمنام قبریں :’راز کھلا تو کشیدگی ہوگی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 25 جنوری 2012 ,‭ 12:41 GMT 17:41 PST
کشمیر کی گمنام قبریں

کشمیر میں دو ہزار سے زیادہ گمنام قبروں میں گمشدہ افراد دفن ہیں

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن کی طرف سے مختلف علاقوں میں دو ہزار سے زائد گمنام قبروں کا انکشاف کرنے کے باوجود مقامی پولیس نے ان قبروں کی تفصیلات کو امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ معلومات ظاہر کی گئیں، تو وادی میں پھر تشدد کی لہر بھڑک سکتی ہے۔

قبروں سے متعلق تفصیلات کے لیے مقامی سول سوسائٹی نےمعلومات تک رسائی کے نئے قانون کے تحت پولیس حکام کو درخواست دی تھی۔

پولیس حکام نے درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ ان تفصیلات کے عام ہوتے ہی شرپسند عناصر وادی میں دوبارہ بدامنی پھیلانے کی کوشش کریں گے۔

انسانی حقوق کے کارکن اور کولیشن آف سول سوسائٹی کے سربراہ پرویز امروز پولیس کی اس دلیل سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قبروں کی تعداد خود سرکاری کمیشن نے جاری کی ہیں اور وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ایک تفتیشی کمییشن اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

پرویز امروز کا مزید کہنا ہے کہ پولیس کے سربراہ نے محکمے کو زبانی ہدایات دی تھیں کہ گمنام قبروں سے متعلق معلومات کو صیغہ راز میں نہ رکھا جائے۔ سی سی ایس نے پولیس کے انکار کے خلاف چیف انفارمیشن کمیشن کے پاس شکایت درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

"صرف وادی کشمیر کے اڑتیس قبرستانوں میں دو ہزار سے زائد گمنام قبریں ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ پچھلے بائیس سال کے دوران فورسز کی حراست میں جو دس ہزار افراد مبینہ طور لاپتہ ہوگئے ہیں، ان میں سے بیشتر کو ان ہی قبروں میں دفن کیا گیا ہے۔"

واضح رہے کہ حکومت نے ریاست میں معلومات تک رسائی کے قانون کو مزید فعال بنانے کے لیے پولیس کو ہدایات دی ہیں کہ گرفتاریوں سے متعلق تفصیلات بھی عوام کی فراہم کی جائیں۔

گمنام قبروں کا معاملہ پچھلے سال اُس وقت سامنے آیا تھا جب انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن کی طویل تفتیش کی تفصیلات شائع ہوئیں اور اس میں بتایا گیا کہ صرف وادی کشمیر کے اڑتیس قبرستانوں میں دو ہزار سے زائد گمنام قبریں ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ پچھلے بائیس سال کے دوران فورسز کی حراست میں جو دس ہزار افراد مبینہ طور لاپتہ ہوگئے ہیں، ان میں سے بیشتر کو ان ہی قبروں میں دفن کیا گیا ہے۔

بعد میں انسانی حقوق کے کمیشن نے جموں کے پونچھ اور راجوری ضلع میں بھی دو ہزار قبروں کے انکشاف سے متعلق شکایت درج کرلی۔گمنام قبروں کے انکشاف کے بعد ہندوستان کی حکومت کو انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔