
گزشتہ برس بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں کم سن بچوں کی مسلسل گرفتاریوں سے خوف کھا کر ضلع بڈگام کے غریب شہری غلام محمد وانی نے اپنے دس سالہ بیٹے نظام الدین کو مدھیہ پریش کے ایک دارلعلوم میں داخل کروا دیا لیکن داخلے کے چند ہفتوں بعد ہی ننّھا نظام ضلع بداونی کے سیندوا دارالعلوم سے اچانک لاپتہ ہوگیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ بائیس برس کے دوران لگ بھگ آٹھ ہزار کشمیری لاپتہ ہوئے ہیں لیکن نظام الدین کی گمشدگی ایک منفرد معاملہ ہے۔
مسٹر وانی اور اب کے رشتہ دار پولیس کی بے رُخی دیکھ کر پچھلے چار ماہ سے وزیراعلیٰ اور دوسرے اربابِ اختیار سے ملاقات کی کوشش میں ہیں۔
غلام محمد وانی کہتے ہیں کہ ’یہاں تو بچوں کی سلامتی خطرے میں تھی۔ سوچا تھا مدھیہ پردیش امن کی جگہ ہے سو دینی تعلیم بھی ملے گی اور جان بھی بچے گی۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میرا بچہ وہاں بھی غائب ہوجائے گا‘۔
گزشتہ بائیس سالہ مسلح شورش کے دوران یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کشمیر کا کوئی بچہ بھارت کی کسی اسلامی درس گاہ سے اس طرح لاپتہ ہوا ہو۔ حالانکہ درجنوں نوجوان دیوبند دارالعلوم اور مختلف بھارتی ریاستوں میں قائم اس کی شاخوں سے فارغ ہوکر ہر سال کشمیر لوٹتے ہیں۔
بچے کی تلاش میں غلام وانی کی مدد کر رہے ان کے داماد بلال احمد کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ اور دیگر وزیروں سے ملاقات کرنا بہت مشکل ہے۔ ’ہماری بدقسمتی ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی حکومت جموں منتقل ہوگئی۔ ہم سیاسی کارکنوں سے رابطہ کرتے ہیں اور وہ آج کل میں وقت گزار دیتے ہیں۔ ہماری تو کوئی سُنتا بھی نہیں‘۔
پچھلے سال پندرہ اکتوبر کو جب نظام الدین لاپتہ ہوا تو بلال احمد ہی مدھیہ پردیش گئے تھے جہاں دارلعلوم کے نگران مولانا محمد یعقوب خان پوری نے پانچ دن تک نظام کو تلاش کرنے میں ان کی مدد کی۔
بلال کہتے ہیں ’وہاں کی پولیس نے بھی کافی دلاسا دیا اور کہا کہ اگر ہم چاہیں تو درسگاہ کے خلاف بھی شکایت درج کر سکتے ہیں لیکن اٹھائیس سال کی تاریخ میں سیندوا دارالعلوم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کیا اور اخباروں میں پوسٹر چھپوائے‘۔
کشمیر واپسی پر اس متاثرہ کنبے کو مقامی پولیس کی بے رُخی نے مایوس کردیا۔
"ہماری بدقسمتی ہے کہ سردیاں شروع ہوتے ہی حکومت جموں منتقل ہوگئی۔ ہم سیاسی کارکنوں سے رابطہ کرتے ہیں اور وہ آج کل میں وقت گزار دیتے ہیں۔ ہماری تو کوئی سُنتا بھی نہیں۔"
بلال کہتے ہیں ’جب میں پولیس تھانے پہنچا تو پولیس افسر نے کہا نظام دہشت گرد بن گیا ہوگا۔ میں نے جیب سے تصویر نکالی اور کہا کہ یہ بچہ کیا دہشت گردی کرے گا۔ اس پر انہوں نے صرف گمشدگی کی رپورٹ درج کی اور باقائدہ ایف آئی آر درج کرنے سے صاف انکار کر دیا‘۔
غلام محمد وانی کا کہنا ہے کہ چار ماہ تک ان کے گھر کوئی سیاسی رہنما نہیں آیا اور نہ ہی انسانی حقوق کے لیے سرگرم کسی گروپ نے ان کی خبر لی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سفر حج کا اہتمام کرنے والی ایک نجی کمپنی نے حالیہ دنوں سینکڑوں کشمیریوں کو بے وقوف بنایا اور اس کا مالک کروڑوں روپے ہڑپ کرکے ریاست چھوڑ کر بھاگ گیا۔
پولیس نے فابیان نامی اس شخص کو ایک ہفتے کے اندر اندر مہاراشٹر سے گرفتار کرلیا۔ اس واقعے کا حوالہ دے کر غلام وانی کہتے ہیں ’حج سکینڈل میں سرمایہ داروں اور سرکاری افسروں کو چوٹ پہنچی تھی۔ پولیس پر دباؤ تھا کہ قصور وار کو پکڑیں۔ میرا بچہ بہت بڑی خبر نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لاپتہ ہونے سے اہلِ اقتدار کا کوئی لینا دینا ہے۔ پولیس ٹس سے مس نہیں ہوتی‘۔
رابطہ کرنے پر پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عبدالغنی میر نے بتایا کہ ’'ہم نے گمشدگی کی رپورٹ ڈال دی ہے۔ سیندوا میں بھی رپورٹ درج ہے اور جیسے ہی وہاں سے اطلاع آئے گی ہم ان لوگوں کو مطلع کرینگے۔اسکے باوجود اگر مجھ سے رابطہ کریں تو میں مدھیہ پردیش بات کروں گا۔‘
نظام الدین کی ماں بیگم وانی کا کہنا ہے کہ اگر نظام کشمیر میں رہتا اور یہاں فائرنگ کے کسی واقعہ میں ہلاک ہوجاتا یا گرفتار کیا جاتا تو اسے افسوس نہ ہوتا۔
’میں تو جیتے جی مرگئی۔ یہاں اس کو کچھ بھی ہوجاتا تو کم از کم میری آنکھوں کے سامنے تو ہوتا۔ اب مجھے کیا پتہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے‘۔
قابلِ ذکر ہے دو ہزار دس میں احتجاجی تحریک کے دوران یہاں درجنوں کم سن لڑکے مارے گئے۔ دو ہزار گیارہ کے دوران احتجاج کے امکانات کو دبانے کے لیے اندھادھند گرفتاریاں ہوئیں اور بیشتر والدین نے اپنے بچوں کو بھارت کے کئی شہروں میں پڑھائی کے لیے بھیج دیا۔ کچھ کا داخلہ پیشہ ورانہ کالجوں میں اور بعض دیگر کا داخلہ عالم سکولوں میں کرایا گیا۔
لیکن غلام محمد وانی کے پاس وسائل نہیں تھے اس لیے انہوں نے بیٹے کو سیندوا مدھیہ پردیش کے دارالعلوم میں ہی داخل کیا۔ غربت اور حالات کی سنگینی کے باعث غلام محمد وانی نے جو کام کیا اس کا پچھتاوا اسے شاید عمر بھر رہے گا۔




















