
بھارتی کشمیر میں گیس اور بجلی دونوں کی شدید قلت ہے
ہرسال کی طرح اس جاڑے میں بھی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیرمیں ضروری اشیاء کی قلت کا مسئلہ ہے۔
اُنیس سو اڑتالیس کی پاک بھارت جنگ کے بعد ہی راولپنڈی روڈ بند ہوگئی تھی تب سے تین سو کلو میٹر طویل اور دشوارگزار جموں - سرینگر شاہراہ واحد زمینی راستہ ہے جو کشمیر کو باہر کی دُنیا کے ساتھ جوڑتا ہے۔
لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ راستہ برفباری کی وجہ سے بند ہے، اور وادی میں ضروری اشیاء خاص طور پر قدرتی گیس کی قلّت سے زبردست مشکلات پیدا ہوگئي ہیں۔
دلچسپ بات ہے کہ ہر سال جاڑے سے چند ماہ قبل انتظامیہ کئی میٹنگوں کے بعد یہ اعلان کرتی ہے کہ کشمیر میں ضروری اشیاء کا وافر ذخیرہ موجود ہے، لیکن ہر سال برفباری کے بعد قلّت پائی جاتی ہے۔
اس سال انتظامیہ نے نیا قدم یہ اٹھایا ہے کہ پندرہ کلو کے گیس سلینڈر میں صرف پانچ کلو کے ری فِل کا حکم دیا ہے اور دوسری طرف یہ اعلان کیا ہے کہ دہایوں سے موجود قلّت کے اس مسئلے کو ہمسائیہ ریاست پنجاب سے آنے والی ساڑھے سات سوکلومیٹر طویل گیس پائپ لائن سے حل کیا جائے گا۔
مقامی حکومت میں خوراک و سپلائز کے وزیر قمرعلی آخون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پانچ کلو گیس کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ ہرگھر میں چولہا جلے۔‘
واضح رہے کہ وادی میں جاڑے کے دوران انڈین آئل، ہندوستان پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم جیسی کمپنیوں کے تیس ہزار گیس سلینڈروں کی کھپت رہتی ہے۔ جنوبی کشمیر میں قائم ہندوستان پیٹرولیم کے رِی فلنگ پلانٹ سے صرف بارہ ہزار سلینڈر بھرے جا سکتے ہیں۔
جب جموں۔سرینگر شاہراہ برفباری کی وجہ سے بند ہوجاتی ہے تو وادی میں روزانہ اٹھارہ ہزار سلینڈروں کی قلّت ہوجاتی ہے، جو پچاس فی صد سے بھی زائد ہے۔

گيس سیلنڈر میں صرف پانچ کلو گیس دی جارہی ہے
مسٹر آخون کہتے ہیں کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت ہند نے پنچاب سے جموں ہوتے ہوئے کشمیر تک ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے اور اس پر کام اسی سال مکمل ہوجائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ پائپ لائن جموں کشمیر کو بھارت کے نیشنل گیس گرڈ سے جوڑے گی اور ہر گھر میں سال بھر گیس کی سپلائی بحال رہے گی۔‘
واضح رہے کہ کشمیر میں جاڑے کے دوران بھاری برفباری اور کڑاکے کی سردی کے ساتھ ساتھ تین سو کلومیٹر طویل جموں۔ سرینگرشاہراہ پرگاڑیوں کا آمدورفت معطل ہوجاتی ہے۔راستہ بند ہوجانے سے ضروری اشیاء کی سپلائی کم ہوجاتی ہے۔
دلچسپ بات ہے کہ ہر سال موسمِ سرما شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت کئی میٹنگوں کے بعد یہ اعلان کرتی ہے کہ جاڑئے کے لیے پیشگی سپلائی رکھی جارہی ہے لیکن ہرسال لوگوں کو قلت کا سامنا رہتا ہے۔
اس سال یہ مسائل اس قدر شدید ہوگئے ہیں کہ علیٰحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے بھی عوام کو سہولات مہیا نہ کرنے پر حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ وزیراعلٰی عمرعبدللہ نے سخت سردی کے ایام میں وزرا اور اعلٰی حکام کو سرینگر میں ہی قیام کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پائپ لائن بچھ جانے کے بعد کشمیر میں سال بھر گیس کی سپلائی بحال رہے گی۔



















