bbc.co.uk navigation

بھارت، چھ کروڑ بچے غذائیت کی کمی کا شکار

آخری وقت اشاعت:  منگل 10 جنوری 2012 ,‭ 13:00 GMT 18:00 PST
بھارتی بچے

بھارت میں تقریبا نصف بچے کم غذائیت کا شکار ہیں

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ملک میں بچوں کو مناسب غذا نہ مل پانا ’قوم کے لیے شرمندگی کا باعث ہے‘ اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم غیر سرکاری تنظیموں کی تیار کردہ ایک رپورٹ جاری کر رہے تھے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی نصف سے کچھ کم آبادی غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق اگرچہ ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے بھارت میں غربت اور غذائیت کی کمی کے مسئلے پر توجہ مبذول کراتے رہے ہیں لیکن بھارت میں اس نوعیت کی جامع رپورٹ پہلی مرتبہ تیار کی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ غذائیتکی کمی کا مسئلہ قوم کے لیے شرم کی بات ہے اور ہماری قومی گھریلو پیداوار میں شاندار ترقی کے باوجود ملک میں غذائیت کی اتنی اونچی شرح کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔‘

لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ رپورٹ کے کچھ پہلو باعثِ تشویش ہیں لیکن یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ بچوں میں کم غذائیت کا مسئلہ پہلےکے مقابلے میں کم ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلےسے نمٹنےکے لیے بچوں کی بہبود کے لیے چلائی جانے والی سکیم آئی سی ڈی ایس کے علاوہ بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور ان دو سو اضلاع پر خاص توجہ دی جائے گی جہاں صورتحال زیادہ خراب ہے۔

"میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ غذائیت کی کمی کا مسئلہ قوم کے لیے شرم کی بات ہے اور ہماری قومی گھریلو پیداوار میں شاندار ترقی کے باوجود ملک میں غذائیت کی اتنی اونچی شرح کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔"

منموہن سنگھ

رپورٹ تیار کرنے والے ادارے ناندی فاؤنڈیشن نے نو ریاستوں میں تہتر ہزار خاندانوں پر مطالعہ کیا ہے۔

منموہن سنگھ نے کہا کہ حفظانِ صحت، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی اور غذائیت کے شعبے میں کام کرنے والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کم غذائیت کا شکار بچوں کی تعداد چھ کروڑ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور مناسب غذا نہ مل پانے کی وجہ سے ان کی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں کم غذائیت کا شکار بچوں کی کل آبادی کا تیسرا حصہ بھارت میں رہتا ہے۔

رپورٹ تیار کروانے والے ادارے سٹیزنس الائنس میں اراکین پارلیمان، ممتاز شخصیات، سماجی کارکن اور فنکار شامل ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔