آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 ستمبر 2011 ,‭ 08:13 GMT 13:13 PST

بی جے پی اور گاندھی جی میں کیا ربط ہے؟

بی جے پی کےدفتر میں گاندھی کے قتل پر کتابیں ہیں لیکن ان کی زندگی پر نہیں

تقریباً ایک دہائی بعد دلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی دفتر 11 اشوک روڈ پہنچا تو کئی چیزیں بدلی ہوئی نظر آئیں۔ اب گاڑیاں باہر فٹ پاتھ پر کھڑی کرنی ہوتی ہیں۔ اندر جانے کےلیے میٹل ڈیٹیکٹر سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔

جس لان میں نریندر مودی یا گووِند اچاریہ ٹہلتے ہوئے نظر آ جاتے تھے، اس کے چاروں طرف نئے کمرے اور قریب میں ایک بڑا آڈیٹوریم تعمیر کردیا گیا ہے۔

پارٹی کے مرکزی دفتر کے اندر کتابوں کی ایک نئی دکان بھی کھل گئی ہے جس میں کتابوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کے جھنڈے اور پوسٹر بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔

کتابوں کو سرسری طور پر دیکھنا شروع کیا۔ اٹل بھاری واجپائی کا شاعری مجموعہ، ڈاکٹر شیام پرساد مکھرجی کے زبانوں کا مجموعہ، دین دیال اُپادھیائے کے کتاب، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے بانی کیشو بلی رام ہیڈگیوار اور مادھو سوشِو گولوالکر کا ادب، لعل کرشن آڈوانی کی کتاب، ہندتو، تقسیمِ ہند، ساورکر کا ادب۔۔۔۔۔ ان سب کتابوں سے ہوتے ہوئے نظر ایک کتاب پر جم گئی۔

نریندر مودی اپنا مشن گاندھی کی تصویر کے نیچے شروع کرتے ہیں، ہیڈگیور یا گولوالکر یا ساورکر یا گوڈسے کی تصویوں کے نیچے نہیں۔ لیکن ان کی پارٹی کے مرکزی دفتر میں گاندھی کے قتل کے پیچھے کی ‘دلیل’ شائع کرنے والے کتاب آسانی سے دستیاب ہیں اور گاندھی پر لکھی ہوئی کتاب نہیں۔ آخر کیوں؟

‘گاندھی ودھ کیوں؟ (گاندھی کا قتل کیوں؟)’ مصنف۔ ناتھورام گوڈسے

کتاب کے کور پر ایک توپ سے نکلنے والے لال رنگ کے گولے کے درمیان گاندھی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ آگ کے شعلے کے نیچے خون ٹپکتا دکھایا گیا ہے۔ اس کتاب کے ساتھ ایک اور کتاب دیکھتا ہوں۔

’گاندھی ودہ اور میں (گاندھی کا قتل اور میں)‘ مصنف۔ گوپال گوڈسے

کاؤنٹر پر کتابیں فروخت کرنے والے پارٹی کے کارکن سے بے ساختہ سوال کرتا ہوں۔ یہ کتابیں۔۔۔ یہاں؟ جلدی ہی اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ سوال بے بنیاد ہے کیونکہ یہ کتابیں تو کہیں بھی دستیاب ہو سکتی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفتر میں بھی۔

کیا گاندھی کے قاتل کی کتابیں شائع کرنا اور فروخت کرنا کوئی جرم ہے؟ بالکل نہیں۔

بی جے پی کے دفتر میں گاندھی کے قتل پر لکھی گئی کتابیں اب بھی فروخت کی جاتی ہیں

کتابیں فروخت کرنے والے شخص نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر کہا۔ ’آپ نے یہ سوال پوچھا ہی کیوں؟‘

‘ہاں، پوچھنے کا دراصل کوئی مطلب نہیں ہے’ میں نے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

کتابوں کی الماریوں پر ایک بار پھر غور سے نظر دوڑاتا ہوں۔ کیا بی جے پی کے دفتر میں مہاتما گاندھی کی سوانحِ عمری یا ان کے بارے میں مواد دستیاب ہوگا؟ اگر ناتھورام گوڈسے کی کتابیں یہاں مل سکتی ہیں تو گاندھی کی تو ملیں گیں ہی۔ آخر بھارتیہ جنتا پارٹی کو مہاتما گاندھی سے کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔

اٹل بہاری واجپائی نے ہی تو گاندھی کے طرز پر سوشلزم کو ایک زمانے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا منشور بتایا تھا۔ ہندتو کے نئے رہنماء نریندر مودی نے اپنے عالیشان بھوک ہڑتال کیمپ پر نہ ہیڈگیور کی تصویر لگائی تھی اور ناہی گولوالکر کی۔ انہوں نے گاندھی کی بڑی تصویر کے نیچے ڈھائی دن کی بھوک ہڑتال کی تھی۔

کتابیں فروخت کرنے والے کارکن کی نگاہیں مجھ پر ہی لگی ہوئی تھی۔ میری نگاہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفتر میں گاندھی کے بارے میں کتابیں ڈھونڈ رہی تھیں۔

کیا یہاں مہاتما گاندھی کی سوانحِ عمری یا ان کے بارے میں کوئی مواد دستیاب ہے؟ میں نے پھر پوچھا۔

کتابیں فروخت کرنے والا کارکن خاموش رہا اور پھر کچھ دیر تک سوچنے اور سمجھنے کے بعد کچھ مصروف سا نظر آتے ہوئے کہنے لگا۔ گاندھی پر کتابیں خریدنی ہیں تو آپ گاندھی میوزیم میں چلے جائیں یا پھر کانگریس پارٹی کے دفتر میں بھی یہ کتابیں آپ کو مل جائیں گے۔

نریندر مودی اپنا مشن گاندھی کی تصویر کے نیچے شروع کرتے ہیں، ہیڈگیور یا گولوالکر یا ساورکر یا گوڈسے کی تصویوں کے نیچے نہیں۔ لیکن ان کی پارٹی کے مرکزی دفتر میں گاندھی کے قتل کے پیچھے کا ‘دلیل’ شایع کرنے والے کتاب آسانی سے دستیاب ہیں اور گاندھی پر لکھے ہوئے کتاب نہیں۔ آخر کیوں؟

آپ کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔