
علی بخش اور عبدالغفار اپنے میزبانوں سے بہت خوش ہیں
عبدالغفار کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے اور وہ امراضِ قلب کا شکار ان پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جو جنوبی بھارت کے شہر بنگلور میں واقع نرائن ہرودیالے ہسپتال میں اپنے علاج کے لیے آتے ہیں۔
عبدالغفار کے بھائی علی بخش کے مطابق وہ پیدائشی طور پر دل کے مریض ہیں۔ علی بخش کا کہنا ہے کہ ’عبدالغفار کے دل میں دو سوراخ ہیں جبکہ ان کے دل کے کچھ والو بھی موجود نہیں۔ وہ بہت کمزور تھے۔ چل پھر بھی نہیں سکتے تھے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب وہ ٹھیک ہیں‘۔
علی بخش کے مطابق ’ہم عبدالغفار کو یہاں اس لیے لائے کہ پاکستان میں ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ وہاں ان کا علاج نہیں ہو سکتا۔ انہیں بھارت لے جاؤ‘۔
پاکستانی ڈاکٹروں نے نرائن ہسپتال کو عبدالغفار کے بارے میں ایک ای میل بھیجی اور جواباً ہسپتال نے ان کے علاج کی ہامی بھر لی۔
میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کی کئی بڑی وجوہات ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ بالاخر سمجھداری کا بول بالا ہوگا اور سیاستدان تعلقات میں بہتری لائیں گے کیونکہ اس قسم کے تعلقات ہمیشہ کے لیے نہیں رہ سکتے۔ میرے خیال میں ایک وقت ایسا آئے گا جب سب کچھ صحیح ہو جائے گا‘۔
ڈاکٹر شیٹی
آپریشن سے قبل عبدالغفار جسم میں آکسیجن کی کمی کے باعث بستر سے اٹھ نہیں سکتے تھے لیکن اب وہ ایک عام انسان کی طرح زندگی گزار سکتا ہے۔ نرائن ہسپتال کے ڈاکٹر دیوی شیٹی کا کہنا ہے کہ ’عبدالغفار زیادہ مشقت والے جسمانی کھیلوں اور ورزش میں حصہ نہیں لے سکتا لیکن اس کے علاوہ وہ بالکل ٹھیک ہے‘۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات اگرچہ ماضی میں زیادہ خوشگوار نہیں رہے اور ممبئی حملوں کے بعد تو تلخیوں میں اضافہ ہی ہوا ہے لیکن حکومتی دوریوں کے برعکس نرائن ہرودیالے کی ’صحت ڈپلومیسی‘ کا سلسلہ زوروشور سے جاری ہے۔
ڈاکٹر دیوی شیٹی کے مطابق ہر سال اس ہسپتال میں سو سے زائد پاکستانیوں کے آپریشن ہوتے ہیں اور مریضوں میں سے زیادہ تر بچے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے لیے یہاں کے بچے ہوں یا پاکستان کے دونوں برابر ہیں۔ ان کا کیا قصور ہے؟ یہ صحیح نہیں کہ اگر پاکستان میں ایک بچہ بیمار ہے اور ہم اس کی مدد کر سکتے ہوں تو ہم یہ نہ کریں۔ ایسا نہیں ہو سکتا‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کی کئی بڑی وجوہات ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ بالاخر سمجھداری کا بول بالا ہوگا اور سیاستدان تعلقات میں بہتری لائیں گے کیونکہ اس قسم کے تعلقات ہمیشہ کے لیے نہیں رہ سکتے۔ میرے خیال میں ایک وقت ایسا آئے گا جب سب کچھ صحیح ہو جائے گا‘۔

’ہمارے لیے یہاں کے بچے ہوں یا پاکستان کے دونوں برابر ہیں‘
ڈاکٹر شیٹی کے مطابق ’بھارتی حکام دل کے مریض پاکستانی بچوں کو ویزے جاری کرنے میں بہت رحمدلی سے کام لیتے ہیں‘۔ علی بخش اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں ویزا ملنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔
تاہم علی بخش کے مطابق جب وہ بھارت آنے لگے تو ان کے ہمسایوں نے انہیں خبردار کیا کہ ’ تم بھارت جا رہے ہو، پتہ نہیں وہاں کیسے لوگ ہوں۔ حالات صحیح نہیں اور ہو سکتا ہے جب تم وہاں ہو تو اسی دوران جنگ ہوجائے اور تم کسی مشکل میں پھنس جاؤ‘۔
علی بخش کا کہنا ہے کہ ان کا جواب تھا کہ ’ اگر کچھ ہوتا ہے تو یہ میری قسمت ہوگی۔ میں تو اپنے بھائی کو علاج کے لیے بھارت لے جاؤں گا‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’خدا کا شکر ہے کہ ہمارا تجربہ بالکل برا نہیں رہا۔ سب کچھ بہت اچھے سے ہوگیا‘۔ علی اپنے میزبانوں سے بہت خوش ہیں۔’یہاں لوگ بہت اچھے ہیں، وہ امن سے پیار کرتے ہیں، بہت محنت کرتے ہیں اور کسی کو تنگ نہیں کرتے‘۔
علی بخش اب پاکستان واپسی کے حوالے سے بہت پرجوش ہیں۔’میرا بھائی اب ٹھیک ہے۔ جلد ہی اسے ہسپتال سے فارغ کردیا جائے گا اور ہم یہاں سے بذریعہ ہوائی جہاز دلّی اور وہاں سے ٹرین کے ذریعے پاکستان جائیں گے۔ واپسی کے سوال پر عبدالغفار کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے والد اور والدہ سے ملنے کو بےچین ہوں۔ جب میں آ رہا تھا تو امی نے کہا کہ جاؤ اپنا علاج کرواؤ اور پھر واپس آنا‘۔
© 2012
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔