
امریکہ نے اپنے مشورہ میں ممبئی حملوں کا ذکر کیا ہے
امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو بھارت کے سفر پر جانے کے لیے احتیاط برتنے کی صلاح دی ہے۔ امریکہ نے اپنے شہریوں کو یہ تنبیہ دہشتگردانہ حملوں کے پیش نظر کی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے اپنے مشورہ میں کہا ہے کہ اسے مستقل ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ شدت پسند بھارت میں حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
بیان کے مطابق ’دہشت گرد اور ان کے ساتھ ہمدردری رکھنے والے لوگو یہ چاہتے ہیں کہ وہ ایسی جگہوں پر حملہ کریں جہاں امریکی شہری یا دیگر مغربی ممالک کے لوگ جمع ہوتے ہوں یا پھر سفر پر نکلتے ہوں۔‘
امریکہ نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سفر کے دوران اپنی حفاظت کا خیال رکھیں اور حالات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہ تنبیہ آئندہ تیس اپریل تک جاری رہے گی۔
نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر ہوئے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ ان حملوں سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح شدت پسند ہوٹل اور دیگر عوامی جگہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس تنبیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری اگر کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں ٹھہرنا چاہیں تو وہ اس کی سکیورٹی کا اچھی طرح سے جائزہ لیے لیں اور مقامی خبروں سے بھی باخبر رہیں۔
امریکہ نے اس سے قبل بھی اپنے شہریوں کے لیے اسی طرح کی تنبیہ جاری کی تھی، تب بھارت نے اس پر شدید رد عمل ظاہر کیا تھا۔
بھارت کا کہنا ہے کہ اس کے ملک میں سیاح محفوظ ہیں اور کسی کو بھی خوف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔