آخری وقت اشاعت:  اتوار, 24 جنوری, 2010, 15:03 GMT 20:03 PST

پاکستانی ائر چیف کی تصویر پر تنازع

اشتہار

وزیر اعظم کے دفتر نے اشتہار میں گڑبڑ (تصویر کی اشاعت) ہونے کے لیے مافی مانگی ہے

بھارت کے ایک قومی اخبار کو دیے گئے سرکاری اشتہار میں پاکستان کے سابق ائر چیف مارشل کی تصویر شائع ہونے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

حالانکہ وزیر اعظم کے دفتر نے اشتہار میں گڑبڑ ہونے کے لیے مافی مانگی ہے۔

رحم مادر میں بچیوں کے قتل کے خلاف اپیل کرنے والا یہ اشتہار خاتون اور بچوں کی بہبود کی وزارت نے تیار کیا ہے۔ اس اشتہار میں کئی مشہور و معروف شخصیات کی تصاویر کے ساتھ پاکستان کے سابق ائر چیف مارشن تنویر محمود احمد کی تصویر شائع کی گئی تھی۔

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے خاتون اور بچوں کی بہبود کی مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ کو کابینہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کرشنا تیرتھ نے اشتہار میں شائع ہونے والی پاکستانی اہلکار کی تصویر کے بارے میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس اشتہار کا مقصد رحم مادر میں بچيوں کے قتل کا روکنا تھا اور وہ مقصد یہ اشتہار پورا کر رہا ہے۔ تصویر کے بارے میں اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کی تحقیق کی جائے گی، ہو سکتا ہے ڈپارٹمنٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ پبلیسیٹی سے کوئی غلطی ہوئی ہو‘۔

تیرتھ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہو تصویر میں فوجی لباس کے سبب غلط فہمی پیدا ہوئی ہو۔

اس اشتہار کا مقصد رحم مادر میں بچيوں کے قتل کا روکنا تھا اور وہ مقصد یہ اشتہار پورا کر رہا ہے

بچوں کی بہبود کی مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ

کرشنا تیرتھ کےبیان پر بی جے پی کے ترجمان راجیو پرتاپ روڈی نے کہا ’پاکستان کے سابق ائر چیف مارشل کی تصویر کو ایک وزارت کے اشتہار ميں لگائے جانے کا کیا مقصد ہے۔ کیا بھارت کی فضائیہ کے سربراہ، فوج یا بحریہ کے سربراہان کے تصاویر نہیں لگائی جا سکتی تھیں۔

سرکار کی جانب سے شائع ہونے والے سبھی اشتہارات سرکاری ایجنسی ڈیپارٹمنٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ پبلسیٹی کے ذریعے شائع کیے جاتے ہیں۔

موجودہ نظام کے مطابق اشتہارات میں شائع ہونے والا مواد ڈی اے وی پی کو متعلق وزارت فراہم کرتی ہے۔ ڈی اے وی پی کا کام پروف کرنے کا اور پھر اسے شائع کروانے کا ہوتا ہے۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔