
مشہور بھارتی کرکٹر سچن تندولکر پر تنقید کے بعد شیو سینا کے صدر بال ٹھاکرے کو سیاسی جماعتوں اور بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بال ٹھاکرے نے اپنی پارٹی کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے ایک اداریے میں سچن کے اس بیان پر تنقید کی تھی جس میں سچن نے کہا تھا کہ ممبئی بھارت کا ہی حصہ ہے۔
بال ٹھاکرے نے اداریے میں لکھا ہے کہ سچن کے بیان سے مہاراشٹر کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور انہوں نے سچن سے کہا ہے کہ وہ کھیل کو ترجیح دیں ، سیاست نہ کریں۔
بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی جماعتوں نے بال ٹھاکرے کے اس بیان پرسخت نکتہ چینی کی ہے۔
سچن نے کہا ہے کہ وہ بھارتی ہیں اور انہیں مراٹھی ہونے پر فخر ہے۔ ہمیں ان کے بیان پر کوئی اعتراض نہیں ہے
سلمان خورشید
بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا کا کہنا ہے کہ سچن نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شیو سینا مہاراشٹر کی نمائندگی نہيں کرتی ہے۔
اقلیتوں کے وزیر اور کانگریسی رہنما سلمان خورشید کا کہنا تھا ’سچن نے بال ٹھاکرے کو کلین بولڈ کر دیا اب وکٹ گرنے کے بعد وہ چاہے جتنا چلاتے رہیں لیکن سچ تو یہی ہے کہ وہ آؤٹ ہو چکے ہیں‘۔
ادھر شیو سینا کی حمایتی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ارون جیٹلی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ’سچن نے کہا ہے کہ وہ بھارتی ہیں اور انہیں مراٹھی ہونے پر فخر ہے۔ ہمیں ان کے بیان پر کوئی اعتراض نہیں ہے‘۔
خیال رہے کہ حال ہی میں سچن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ممبئی بھارت کا حصہ ہے اور انہيں مراٹھی ہونے پر فخر ہے لیکن وہ پہلے ایک بھارتی ہیں۔ سچن نے یہ بھی کہا تھا کہ ممبئی سب کی ہے۔
© MMIX